گوگل پلس اب سب کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ویب سائٹ کو عام استعمال کے لیے کھولے جانے پر گوگل پلس میں چند اضافے کیے جا رہے

انٹرنیٹ کمپنی گوگل کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’گوگل پلس‘ ڈھائی ماہ کے آزمائشی دور کے بعد اب عام استعمال کے لیے تیار ہے۔

ابتدائی مراحل کے دوران گوگل پلس صرف صحافیوں اور ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے کھولی گئی تھی لیکن دیگر انٹرنیٹ کے صارفین کو دعوتیں بھیجنے کی وجہ سے ویب سائٹ کے صارفین جلد ہی لاکھوں تک پہنچ گئے۔

ویب سائٹ کے شروع ہونے کے دو ہفتے بعد ہی گوگل نے اعلان کیا تھا کہ صارفین کی تعداد ایک کروڑ ہو گئی ہے۔

اگرچہ گوگل نے اس کے بعد صارفین کی تعداد کے متعلق کوئی اعلان نہیں جاری کیا لیکن انٹرنیٹ پر ویب سائٹوں کا جائزہ لینی والی کمپنی ’ کومسکور‘ کے مطابق گوگل پلس کے صارفین کی تعداد ویب سائٹ کے پہلے ماہ کے اختتام تک ڈھائی کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔

ویب سائٹ کو عام استعمال کے لیے کھولے جانے پر گوگل پلس میں چند اضافے کیے جا رہے ہیں جبکہ گوگل پلس کی ویڈیو چیٹ سمیت بہت سے دیگر ’فیچرز‘ کو پہلے ہی خاصا سراہا جا رہا ہے۔

تاہم گوگل پلس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فیس بک نے بھی اپنی ویب سائٹ پر اضافے کرنے شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اضافے وہ ایک عرصے سے کرنا چاہ رہے تھے اور اس کا گوگل پلس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں میں گوگل ایک نیا کھلاڑی ہے اور اسے ٹِوئٹر اور فیس بک جیسے حریفوں کا سامنا ہو گا۔ فی الوقت ٹِوئٹر کے بیس کروڑ اور فیس بک کے پچھہتر کروڑ صارفین ہیں۔

گوگل کے سماجی بزنس کے سینئر نائب صدر وِک گنڈوترا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دیگر ویب سائٹوں کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا ’آج بھی انٹرنیٹ پر زیادہ تر صارفین رابطے کے لیے ای میل کو ہی استعمال کرتے ہیں سو ہمارا خیال ہے کہ ابھی جدت کی بہت گنجائش ہے‘۔

اسی بارے میں