اوزون کی تہہ میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سائنسدانوں کے مطابق قطب شمالی پر اس برس اس قدر اوزون میں کمی واقع ہوئی ہے کہ پہلی مرتبہ اسے بھی قطب جنوبی کی طرح ’اوزون ہول‘ کہا جانے لگا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سطح زمین سے بیس کلو میٹر فضا میں اسی فیصد اوزوں ختم ہو گئے ہیں۔

اس کا سبب اس اونچائی پر طویل سرد موسم کو بتایا جا رہا ہے۔ سرد موسمی حالات میں کلورین کے ذرات اوزون کو ختم کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اس طرح کا نقصان دوبارہ دیکھنے میں آئے گا۔

قطب شمالی میں اوزون کو ہونے والے نقصان پر اس سال اپریل میں بھی اعدادوشمار شائع ہوئے تھے لیکن نیچر جریدے میں ان اعدادوشمار کا مکمل طور پر تجزیہ کیا گیا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے سردیوں کا موسم سرد تر ہوتا جا رہا ہے جس سے اوزون کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اوزون کو نقصان دہ کیمیکل کلوروفلورکاربن میں ہوتا ہے جس کا استعمال گزشتہ صدی کے آخر میں بڑھا اور یہ گھریلو آلات مثلاً فریج اور آگ بجھانے والے کیمیکل میں پایا جاتا ہے۔

اوزون کو نقصان پہنچنے کا پہلا مشاہدہ قطب جنوبی کی فضاوں میں کیا گیا جہاں پر ہر موسم سرما میں اوزون کی تہہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔

کلوروفلوروکاربن کے استعمال پر انیس سو ستاسی میں مانٹریال پروٹوکل کے تحت پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اوزون کی تہہ سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ بی شعاوں کو زمین کی فضا میں آنے سے روکتی ہے۔ یہ شعائیں جلدی کا سرطان اور دوسری بیماریوں کی موجب بنتی ہیں۔

بحیرہ منجمد شمالی کے اوپر فضا میں درجہ حرارت میں اس قدر کمی نہیں ہوتی جتنی بحیرہ منجمد جنوبی کی فضا میں ہوتی ہے۔

روس اور یورپ کے ماہرین نے سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ بی شعاوں کے زمین تک زیادہ مقدار میں پہنچنے کا مشاہدہ کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ انسانی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوں گی۔

سائندانوں کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود کلروین کے ذرات اس صدی کے وسط تک موجود رہیں گے اور اس کے بعد ہی اوزون کی تہہ صنعتی انقلاب سے پہلے کی حالت میں واپس آئے گی۔

اسی بارے میں