ٹی بی سے چار کروڑ اموات کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں میں انفیکشن سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق سنہ دو ہزار پچاس تک سگریٹ نوشی کرنے والے چار کروڑ افراد کے ٹی بی میں مبتلا ہوکر ہلاک ہونے کے خدشات ہیں۔

سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کی نسبت پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا ہونے کا دوگنا خطرہ ہوتا ہے۔

بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ٹی بی کے متعدد نئے کیسز افریقہ، مشرقی بحیرۂ روم اور جنوب مشرقی ایشیاء کے خطوں میں ہوں گے۔

پھیپھڑوں کے مرض کی روک تھام میں مدد کرنے والے ایک فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ ٹی بی کی روک تھام کے لیے عالمی کوششیں تمباکو کی صنعت کی جانب سے سگریٹ نوشی کی ترغیب کے لیے چلائی جانے والی مہم کے باعث متاثر ہورہی ہیں۔

ٹی بی کے ماہر اور برٹش لنگ فاؤنڈیشن کے طبی مشیر ڈاکٹر جان گِلن کا کہنا ہے ’عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ٹیوبرکلوسِس کو عالمی صحت کے لیے خطرہ قرار دیے بیس برس ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد سے اس مرض کے تناسب میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے جبکہ سگریٹ نوشی نے ٹی بی میں مبتلا ہونے کے خطرے اور اس سے ہلاک ہونے کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔‘

دنیا میں ہر پانچواں شخص تمباکو نوشی کرتا ہے اور یہ تعداد ایسے کئی ممالک میں ہے جہاں ٹی بی کا تناسب زیادہ ہے اور جہاں تمباکو ساز کمپنیوں نے اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے۔

تمباکو نوشی ٹی بی کے لیے ایک جانی پہچانی وجہ ہے اور اس سے پھیپھڑوں میں انفیکشن سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

اموات کے خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ f
Image caption ’تمباکو نوشی کے اثرات سے ٹی بی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ‘

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈاکٹر سنجے باسو اور ان کے ساتھیوں نے پیش گوئی کی ہے کہ تمباکو نوشی کے اثرات سے ٹی بی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کی جانب سے جمع کیے گئے ماضی کے اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے مستقبل کے اندازے لگائے ہیں اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے چار کروڑ افراد ٹی بی میں مبتلا ہوکر سنہ دو ہزار دس اور سنہ دو ہزار پچاس کے درمیان ہلاک ہوجائیں گے۔

ان کے مطابق اگر تمباکو نوشی کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو ٹی بی کے ایک کروڑ اسّی لاکھ نئے کیسوں میں اضافہ ہوگا۔

ان کے بقول سگریٹ نوشی کی وجہ سے سنہ انیس سو نوے اور سنہ دو ہزار پندرہ کے درمیان ٹی بی کے باعث ہونے والی اموات کو روکنے کی کوششوں کو پہلے ہی دھچکا لگ چکا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تمباکو کے خلاف بھرپور مہم کے ذریعے ٹی بی میں مبتلا ہوکر کئی لاکھ افراد کو مرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں