’اضافی وٹامنز سے زندگی کو خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وٹامنز اگر زیادہ مقدار میں لے لیے جائیں تو نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ وٹامن صرف اسی صورت میں استعمال کیے جانے چاہیے جب جسم میں ان کی کمی ہو بصورتِ دیگر یہ نقصانِ دہ ہو سکتے ہیں۔

محققین کہتے ہیں کہ بات جب وٹامن کی آتی ہے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کوئی بہت اچھی چیز لے رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔

ماہرین نے وٹامن کے استعمال اور عمر رسیدہ خواتین میں اموات کے خدشات کے درمیان تعلق کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔

ماہرین کو شبہہ ہے کہ بعض اوقات اضافی توانائی کی غرض سے لیے جانے والے وٹامن صرف اُسی صورت میں فائدہ مند ہوتے ہیں جب کسی شخص میں غذائیت کی کمی ہو۔

آرکائیو آف انٹرنیشل میڈیسن نامی ادارے کی تحقیق کے مطابق وٹامنز اگر زیادہ مقدار میں لیے جائیں تو نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

پچاس سے ساٹھ برس کی عمر کی خواتین کی نشو نماء چونکہ عموماً مکمل ہو چکی ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی ان میں سے کئی سپلیمنٹ لینے کا فیصلہ کرتی ہیں۔

خاص طور پر ملٹی وٹامن، فولک ایسڈ، وٹامن بی سِکس، میگنیسیم، زِنک، کاپر، اور آئرن کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

محققین تسلیم کرتے ہیں کہ صارفین بناء یہ جانے کہ یہ ان کے لیے فائدہ مند ہے بھی یا نہیں وہ سپلیمنٹ خرید لیتے ہیں۔

یہ تحقیق اڑتیس ہزار امریکی خواتین پر کی گئی جنہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں وہ کون کون سے سپلیمنٹ استعمال کرتی رہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ نقصان کے پیشِ نظر یہ سپلیمنٹ صرف اُسی صورت میں استعمال کیے جانے چاہیے جب طبی وجوہات کی بنا پر ان کی اشد ضرورت ہو۔

تحقیق کے مطابق آئرن کی گولیاں سب سے زیادہ دو اعشاریہ چار فیصد موت کے خطرے کا باعث بنتی ہیں۔

اس کے برعکس کیلشیم کے استعمال سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی مزید تحقیق ہونا ضروری ہے اور وہ یہ بالکل تجویز نہیں کریں گے کہ لوگ بناء کسی معالج کے مشورے سے کیلشیم استعمال کرنا شروع کر دیں۔

برٹش ڈائٹیٹِک ایسوسی ایشن کی رکن ہیلن بونڈ کا کہنا ہے کہ بعض لوگ باالخصوص عمر رسیدہ افراد کو کچھ سپلیمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً وٹامن ڈی پینسٹھ برس کی عمر کے لوگوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔

لیکن ہیلن بونڈ کہتی ہیں کہ عام طور پر لوگ تمام ضروری وٹامنز اور معدنیات ایک صحت مند اور متوازن غذا سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں