ایڈز کے لیے جدید ادویات زندگی کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محققین کا کہنا ہے حکومت بروقت تشخیص کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کروائے۔

ایک جائزے کے مطابق برطانیہ میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کے مرض کے لیے بننے والی جدید ادویات سے گذشتہ دہائی کے دوران مریضوں میں زندگی کی امید بڑھی ہے۔

برطانیہ کے محققین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کو وسیع پیمانے پر ایچ آئی وی کے ٹیسٹ کروانے کا بندوبست کرنا چاہیے تاکہ ابتدائی مراحل میں اس مرض کے علاج سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

’نئی دوا سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ محدود‘

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں رہنے والے اسّی ہزار افراد کو ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہے اور ان میں پچیس فیصد ایسے ہیں جنہیں اس بات کا علم تک نہیں۔

ڈاکٹر مارگریٹ مے کی قیادت میں برسٹل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے بیس سال پر محیط طریقہء علاج اور سنہ انیس سو چھیانوے تا انیس سو نناوے اور سنہ دو ہزار چھ تا دو ہزار آٹھ کے دوران اینٹی ریٹرویرل ڈرگز کے استعمال کا جائزہ لیا۔

حاصل شدہ اعدادو شمار کے مطابق جدید دواؤں کے استعمال سے ایڈز کا شکار افراد مدتِ عمر تیس سے بڑھ کر چھیالیس برس تک دیکھی گئی۔

مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایڈز سے متاثرہ خواتین اسی بیماری کا شکار مردوں کی نسبت ایک دہائی تک زیادہ زندہ رہ پاتی ہیں کیونکہ دورانِ حمل وہ ایچ آئی وی کے نسٹ کرواتی ہیں۔ ایسے میں بیماری کے ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایچ ائی وی اور جنسی صحت کے لیے قائم ایک فلاحی اداری ’ٹیرینس ہیگنز‘ کا کہنا ہے کہ یہ ایچ آئی وی کے مریضوں اور ان کے خاندان کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

ادارے کے سربراہ سر نِک پیٹریج کا کہنا ہے ’اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جاننا کتنا ضروری ہے کہ تشخیص میں تاخیر کا مطلب ہے جلد قبر۔ اس لیے اگر آپ کو ایچ آئی وی کا خطرہ ہے تو ابھی ٹیسٹ کروائیں۔‘

’یقیناً صرف زندگی کی طوالت ہی نہیں جو اہم ہے لیکن زندگی کا معیار بھی ضروری ہے اور ایچ آئی وی کا ہونا بھی آپ کی زندگی کے مواقع کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں