سٹکس نیٹ وائرس کی نئی شکل

نیا وائرس
Image caption نئے وائرس کو ڈُوکو کا نام دیا گیا ہے۔

محققین کو ایک نئے خطرناک کمپیوٹر وائرس کا پتہ چلا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے میں استعمال ہونے والے وائرس کی نئی شکل بھی ہو سکتا ہے۔

اس کی شناخت سٹكس نیٹ کے نام سے کی جا رہی ہے اور اس کے خطرے سے دنیا بھر کی حکومتوں کو متنبہ کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ پہلے موجود کسی وائرس کی نئی شکل بھی ہو سکتی ہے۔

سٹكس نیٹ ایک انتہائی پیچیدہ قسم کا کمپیوٹر وائرس تھا اور اسے گزشتہ سال ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جاسوسی اور نیوکلیئر پروگرام میں رخنہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ابھی تک کسی نے اس نئے وائرس کو بنانے والے یا والوں کو کوئی نشاندہی نہیں کی ہے۔ لیکن اس کے بارے میں انگلیاں اسرائیل اور امریکہ کی طرف اٹھ رہی ہیں۔

خطرہ بننے والے اس نئے وائرس کا پتہ چلانے والوں نے اسے نام ڈُوكو کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے مستقبل میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سٹکس نیٹ جیسے حملے کیے جا سکیں گے۔

اس کا نام ڈُوکو اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ ایسی فائلیں بناتا ہے جن کے شروع میں ڈی کیو لگا ہوتا ہے.

اس وائرس کا انکشاف سیمینٹک نامی ایک سکیورٹی فرم نے کیا ہے۔ جسے اِس کے بارے میں ایک ایسے ادارے نے بتایا جس کے لیے مذکورہ فرم سکیورٹی کا کام کرتی ہے۔

سیمینٹک نے اس کے بعد یورپ کے کئی ملکوں میں لگے کمپیوٹر سسٹموں سے اس وائرس سے بننے والی فائلوں کے نمونے جمع کیے اور ان کا تجزیہ کیا۔

ابتدائی تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈُوکو سے بننے والی فائلیں سٹکس نیٹ سے بننے والی فائلوں سے بہت ملتی جُلتی ہیں اور ان کا کوڈ تقریباً سٹكس نیٹ کی طرح کا ہی ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں وائرسوں کو بنانےوالے ایک ہی ہیں یا اس وائرس کے لیے سٹکس نیٹ کی فائلوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

لیکن سٹیکس نیٹ کے برخلاف ڈُوکو میں کوئی ایسا کوڈ نہیں ہے جس کا تعلق صنعتی نظام کے کنٹرول سے ہو۔ اس کے علاوہ یہ از خود اپنی نقلیں تیار نہیں کرتا۔

اس سے یہ مطلب نکالا گیا ہے کہ یہ وائرس خاص طرح کے مقاصد اور نشانوں کے لیے بنایا گیا ہے اور اس سے خاص اداروں اور ان کے اثاثوں کو ہی نشانہ بنایا جائے گا۔

سٹكس نیٹ وائرس نے ساری دنیا میں سائبر جنگ کا نیا دور شروع کر دیا تھا اور اس کے بعد تمام حکومتیں اپنے ضروری نظاموں کی حفاظت کو زیادہ موثر بنانے کے اقدامات کرنے لگیں۔

اس واقعے کے بعد حکومتیں ایک دوسرے کے یہاں جاسوسی کرنے اور سائبر دہشت گردی جیسے مسئلے پر باہمی مذاکرات کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگی تھیں۔

مذکورہ فرم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈُوکو وائرس خود کو متاثر ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے چھتیس دنوں میں خود ہی الگ کر لیتا ہے۔

اس سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس دوران وہ ایسی خفیہ معلومات جمع کرتا ہوگا جن کی مدد سے مستقبل میں دوسرے سائبر حملے کیے جا سکتے ہوں۔

سیمینٹک کے چیف ٹیکنیکل آفیسر گریگ ڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ ڈُوکو کے کوڈ بہت ہی جدید نوعیت کے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی شوقیہ کام کرنے والے شخص کا کام نہیں، یہ کسی بہت ہی تیز دماغ ٹیکنالوجی کا کام ہے اور اس کا مطلب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسے کسی نے کسی خاص مقصد کے پیش نظر بنایا ہے‘۔

اس کے باوجود ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وائرس کسی حکومت کی سرپرستی میں بنایا جانے والا وائرس ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور سیاسی مقصد ہے۔

ایران نے سٹیکس نیٹ حملے کے بعد یہ اعتراف کیا تھا کہ اس وائرس کے نتیجے میں سینٹری فیوجز تخریب کاری کا نشانہ بنے تھے حالانکہ سٹکس نیٹ کے اثرات کو بڑی حد تک ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں