ایسپرین آنتوں کے کینسر کے لیے مفید

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption آنتوں کے کینسر کا ایسپرین سے خطرہ کم ہوجاتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنہیں آنتوں کے کینسر کا زیادہ خطرہ ہو انہیں روزانہ ایسپرین کی گولی دی جانی چاہیے۔

سائنسی جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آٹھ سو اکسٹھ افراد پر مشتمل ایک گروپ جسے آنتوں کے کینسر کا زیادہ خطرہ تھا انہیں دو سال تک روزانہ ایسپرین کی دو گولیاں دینے سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ تریسٹھ فیصد کم ہو گیا۔

نیو کیسل یونیورسٹی کے پروفیسر سر جان برن کا کہنا ہے کہ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج بہت قوی ظاہر ہوئے ہیں۔

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ایسپرین کے استعمال سے کیسنر سے بچا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق ایک ہزار افراد پر مشتمل ایک گروپ پر کی گئی جن میں سے آٹھ سو اکسٹھ میں آنتوں کے کینسر کی علامات پائی جاتی تھیں۔

سائنسدانوں کے مطابق گروپ میں شامل تمام مریضوں کو دیکھنے کے بعد، ایسے مریض جنہیں روزانہ چھ سو ملی گرام ایپسرین دی گئی ان میں انیس ٹیومر بنے جبکہ دوسرے مریض جنہیں ایپسرین نہیں دی گئی تھی ان میں چونتیس ٹیومر بنے۔

سائنسدانوں کے مطابق گروپ میں شامل ایسے مریض جنہوں نے دو سال تک روزانہ ایسپرین کا استعمال کیا ان میں آنتوں کے کینسر کا احتمال تریسٹھ فیصد کم ہو گیا۔

نیو کیسل یونیورسٹی کے پروفیسر سر جان برن کے مطابق برطانیہ میں تیس ہزار بالغ افراد میں آنتوں کے مورثی کینسر کی علامات پائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان تمام افراد کا علاج کیا جائے تو تیس برس کے دوران دس ہزار افراد کو آنتوں کے کینسر سے بچایا جا سکتا ہے اور ایک ہزار افراد اس بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

پروفیسر سرجان برن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاج کے دیگر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اس علاج سے دس ہزار مریضوں کو کینسر سے بچایا جا سکتا ہے تاہم اس علاج سے دس ہزار میں سے ایک ہزار کو السر یا ایک سو افراد کو سٹروک کی شکایت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جن کے خاندان میں آنتوں کا کینسر پایا جاتا ہے انہیں ایسپرین کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں