برطانوی بچے تشدد پسند ہوتے جا رہے ہیں: سروے

بچوں کی فلاحی تنظیم برنارڈو کے ایک سروے کے مطابق تقریباً آدھے برطانویوں کا خیال ہے کہ بچے تشدد پسند ہوتے جا رہے ہیں اور جنگلی جانوروں کی طرح کا رویہ اپنا رہے ہیں۔

برنارڈو کے مطابق تحقیق کہتی ہے کہ معاشرہ بچوں کو منفی انداز میں دیکھ رہا ہے حالانکہ زیادہ تر بچے خوش اخلاق ہیں۔

اس سروے کے لیے آئی سی ایم ریسرچ ادارے نے دو ہزار لوگوں سے بات کی، جن میں سے چوالیس فیصد نے کہا کہ بچے جنگلی ہوتے جا رہے ہیں۔

برنارڈو کی چیف ایگزیکٹو این میری کیری کا کہنا تھا کہ اتنے سارے لوگوں کا اس طرح سے سوچنا افسوسناک بات ہے۔

سروے نے انکشاف کیا کہ انتالیس فیصد افراد نے کہا کہ بچے جانوروں کی طرح پیش آنے لگے ہیں۔ تقریباً سینتالیس فیصد لوگوں کے خیال میں نوجوان برہم، تشدد پسند اور بداخلاق ہیں۔

اس سروے سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ بداخلاق بچے دس سال کی عمر کے بعد اصلاح کے قابل نہیں رہتے۔اگرچہ چھتیس فیصد کے خیال میں جو بچے غلط راہ پر چل رہے ہوتے ہیں انہیں مدد کی ضروت ہے، لیکن اڑتیس فیصد نے اِس بات سے اختلاف کیا۔

خیراتی تنظیم برنارڈو نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے بہت سے نوجوان انتہائی مشکل حالات میں پلے بڑے ہوتے ہیں اور معاشرے کو پہلے اُن کے مسائل حل کرنا ہونگے۔

برنارڈو کی رضاکارانہ کارکن نتاشا کرپس، جنہوں نے یہ تحقیق کروائی ہے، کہتی ہیں کہ نوجوانوں کے لیے لفظ جنگلی کا استعمال ان سے مکمل دوری اختیار کر لینے کی علامت ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ’بچوں کو جنگلی کہنے کا مطلب یہ کہنا ہے کہ بس ہم نے نئی نسل کو چھوڑ دیا۔ میرے خیال میں آپ کبھی بھی نئی نسل سے تعلق منقطع نہیں کر سکتے۔‘

نتاشا کرپس نے مزید کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے لوگ نوجوانوں کے بارے میں ایسی سوچ رکھتے ہیں اور لفظ جنگلی کا استعمال کافی خوفناک بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنے سارے نوجوان مثبت کام کر رہے ہیں مگر یہ منظرِعام پر نہیں آتے کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر جگہ منفی چیزوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

برنارڈو ٹی وی پر ایک نیا اشتہار نشر کرنے والا ہے جو دکھاتا ہے کہ بچوں میں یقین رکھنے کا ایسے بچوں پر کتنا مثبت اثر پڑتا ہے جو معاشرے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

برنارڈو کی چیف ایگزیکٹو این میری کیری نے کہا کہ ’اگر برطانیہ میں بڑوں کی یہ سوچ ہے تو بچوں کیلئے کیا اُمید رہ جاتی ہے۔ بظاہر ہم یہ بھول رہے ہیں کہ عموماً بچے خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن ہم بغیر سوچے سمجھے یہ مان لیتے ہیں کہ نوجوان نسل باغی اور مجرم ہیں۔‘

این میری کیری کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو بدتمیزی برداشت کرنے کیلئے نہیں کہہ رہے ہیں مگر ہمیں بچوں کے بارے میں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔