زلزلے سب سے زیادہ جان لیوا قدرتی آفت

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحقیق کے مطابق زلزلے سے تعمیرات کی تباہی زیادہ اموات کا باعث بنتی ہے۔

امریکی محققین کے مطابق زلزے کسی بھی دوسری قدرتی آفت کی نسبت انسانی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں ہر سال مختلف شدّت کے دس لاکھ سے زائد زلزلے آتے ہیں۔ ان کا اثر کسی بھی سمندر طوفان اور سیلاب جیسی قدرتی آفت سے زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ زلزلے میں نہ صرف فوری اموات ہوتی ہیں بلکہ بہت سے لوگ شدید زخمی ہو جاتے ہیں اور شہروں کے بنیادی ڈھانچوں کی تباہی کے باعث ان کاعلاج بھی ممکن نہیں ہو پاتا۔

تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو لاحق ہوتا ہے۔

فالٹ لائن پر واقع دنیا کے بڑے شہروں لاس اینجلس، ٹوکیو، نیویارک، دہلی اور شنگھائی میں لاکھوں لوگوں کی جانیں زلزلے کے باعث خطرے سے دوچار ہیں۔

تحقیق کے مطابق گذشتہ دہائی میں زلزلوں کے باعث سات لاکھ اسّی ہزار اموات ہوئیں اور ان میں بھی ساتھ فیصد براہِ راست زلزلوں کے باعث نہیں بلکہ ان سے منسلک وجوہات سے ہوئیں۔

جبکہ اس کی نسبت دوسری قدرتی آفات جیسا کہ سیلاب اور سمندری طوفانوں سے بعض افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے تاہم ان میں بہت کم لوگ زخمی ہوئے۔

ایک اندازے کے مطابق کسی بھی زلزلے میں جہاں ایک شخص ہلاک ہوتا ہیں وہاں تین دوسرے زخمی ہوتے ہیں۔

زلزلے کے بعد ڈپریشن کا مرض بھی بہت عام ہے جس نے تقریباً بہتر فیصد آبادی کو متاثر کیا ہے۔

انیں سو ننانوے میں ترکی میں آئے زلزلے کے بعد سترہ فیصد لوگوں نے خود کشی کا ارادہ کیا۔

تحقیق کے مطابق زلزوں کے دوران بڑوں کی نسبت بچوں کے زخمی ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہیٹی میں دو ہزار دس میں آئے زلزلے میں زخمی ہونے والے افراد میں باون فیصد بیس سال سے کم عمر کے لوگ تھے اور پچیس فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے تھے۔

بوسٹن میں Harvard Humanitarian Initiative نامی ادارے کی ڈاکٹر سوسن بارٹیل کے سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے لکھا ہے کہ ’چونکہ زلزلے اکثر کثیر آبادی والے شہری علاقوں کو متاثر کرتے ہیں جہاں تعمیرات بھی معیاری نہیں ہوتیں، اسی وجہ سے وہاں ہلاکتوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور لوگ زخمی بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں