ملیریا کے جراثیم کا طریقۂ واردات دریافت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 نومبر 2011 ,‭ 04:36 GMT 09:36 PST
فائل فوٹو

ہر سال تین کروڑ افراد ملیریے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کیمبریج میں سانگر انسٹیٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دریافت کرلیا ہے کہ ملیریا کا جان لیوا جراثیم کس طرح خون کے سرخ خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دریافت ملیریا کے علاج کے لیے بنائی جانے والی ویکسین کو مزید بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس دریافت سے کافی حیران اور متاثر ہوئے ہیں۔

ہر سال تیس کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ دس لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں زیادہ تعداد افریقہ میں صحرائے صحارا کے گرد رہنے والے بچوں کی ہے۔

ماہرین کے مطابق ملیریا کے بہت سے جراثیم ہوتے ہیں لیکن پلازموڈیم فیلسیپرم سب سے جان لیوا ہے۔ ’ سب سے مشکل اور ہوشیار دشمن ہے۔‘

سائنسدانوں کے مطابق یہ مدافعتی نظام کو دھوکہ دے کر بچ نکلنے میں غیر معمول طور پر اچھا ہے۔ یہ مچھر کے کاٹنے کے بعد پانچ منٹ میں جگر میں چھپ جاتا ہے۔

اس کے بعد یہ جگر سے نکل کر خون کے سرخ خلیوں میں کو متاثر کر کے پھیلتا ہے۔

انسانی مدافعتی نظام ملیریا کے خلاف لڑنے میں مشکلات سے دوچار ہے جبکہ ایسی ہی صورتحال سائنسدانوں کو اس کے لیے دوا تیار کرنے میں بھی درپیش ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں چھپنے والی اس تحقیق کے مطابق تاحال ملیریا کے جراثیم سے خون کے سرخ خلیوں کے متاثر ہونے کے بارے میں تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

سائنسدان پلازموڈیم اور خون کے سرخ خلیوں پر پروٹین کا جائزہ لے رہے تھے جو جراثیموں کے لیے اپنے ہدف کو پہچاننے اور اس پر حملہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔