ماحولیاتی تبدیلی سے خائف ممالک کا اجلاس

آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 نومبر 2011 ,‭ 05:54 GMT 10:54 PST

ماہرین کہتے ہیں کہ سمندر کے پانی کی سطح اگر ایک میٹر بڑھتی ہے تو بنگلہ دیش کا پندرہ فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ جائے گا

بیس ایسے ممالک کے وزراء اور ماہرین کا بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اجلاس ہورہا ہے جنہیں خدشہ ہے کہ ان کے ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کا اثر سب سے زیادہ ہونے والا ہے۔

اتوار سے شروع ہونے والی دو دن کی اس کانفرنس میں امیر ممالک سے اپیل کی جائے گی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے زیادہ مالی اور تکنیکی مدد فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ ان سب ممالک کے مطالبات سنیں گے جو ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ چند ہی ہفتوں بعد جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اقوام متحدہ کی جانب سے ماحولیاتی کانفرنس بھی ہونے والی ہے۔

یوں تو ساری دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں لیکن بنگلہ دیش، بھوٹان اور مالدیپ جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ آنے والے عشروں میں ان پر تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پڑے گا اور انہیں فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر ماہرین کہتے ہیں کہ سمندر کے پانی کی سطح اگر ایک میٹر بڑھتی ہے تو بنگلہ دیش کا پندرہ فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ جائے گا اور لاکھوں لوگ پناہ گزین بن جائیں گے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک ذمہ دار ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگتنے والے غریب ممالک کی امیر ممالک کو مدد کرنی چاہیے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ امیر ممالک عالمی حدت کے لیے بنائے گئے خصوصی فنڈ کی تشکیل کا کام تیز کریں۔

اس کوشش کا مقصد ان ممالک کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مشترکہ طور پر اٹھائی جانے والی آواز سے ان ممالک کی تشویش کا ازالہ ہوسکے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔