جگر کے خلیوں کی پیوندکاری کا پہلا تجربہ

عیاد سید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب عیاد سید کی عمر آٹھ ماہ ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے

برطانیہ میں ڈاکٹروں نے جگر کی مکمل خرابی کے ایک مریض بچے کے جگر میں نئے خلیوں کی پیوند کاری کر کے اس کی زندگی بچا لی ہے۔

جنوبی لندن کے کنگز کالج ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جگر کی پیوند کاری کے بغیر ناکارہ جگر کو دوبارہ کارآمد بنانے کا یہ پہلا کامیاب تجربہ ہے۔

یہ تجربہ عیاد سید نامی ایک بچے پر کیا گیا جس کا جگر دو ماہ کی عمر میں ایک وائرس کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران ڈاکٹرز نے بچے کے جگر میں میں صحت مند جگر سے حاصل کیے گئے خلیوں کو بچے کے پیٹ میں انجکشن کے ذریعے داخل کیا جنہوں نے فوری طور پر پروٹین اور دیگر ضروری مادے پیدا کرنے شروع کر دیے اس طرح یہ خلیے فوری طور پر ایک عارضی جگر کا کام کرنے لگے۔

ڈاکٹروں کے مطابق دو ہفتے کے دوران بچے کے جگر نے بھی کام کرنا شروع کر دیا جو اس سے پہلے ناکارہ ہو چکا تھا۔ اب ڈاکٹرز اس تکنیک کو روزمرہ پیش آنے والے جگر کی بیماریوں میں استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

کنگز کالج ہسپتال میں امراضِ جگر کے ماہر پروفیسر انیل دھون کا کہنا ہے کہ ان کی پوری ٹیم بہت خوش ہے۔

ان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقۂ علاج کو کسی ایسے بچے پر آزمایا گیا جس کا جگر ناکارہ ہو چکا تھا۔’ میں نے اس بچے کو چند ماہ قبل ہی دیکھا تھا اور اس وقت یہ اتنا بیمار تھا کہ اسے مسلسل ڈائلیسز اور سانس دلانے والی مشین کی ضرورت تھی‘۔

.پروفیسر دھون کے مطابق ’ہمارے خیال میں ہم نے اسے ایک نئی زندگی دی ہے اور اب چھ ماہ بعد اس کے جگر کو تقریباً صحیح طریقے سے کام کرتے دیکھنا شاندار ہے‘۔

عیاد کے والد جہانگیر اپنے بیٹے کو ’معجزاتی بچہ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب اس کا علاج ہوا تو اڑتالیس گھنٹے بعد ہی اس کی حالت میں بہتری آنے لگی تھی اور ہماری امید بحال ہوگئی تپی۔ یہ شاندار ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے‘۔

اسی بارے میں