بیٹریز کی صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یہ بیٹریز آئندہ پانچ برس میں بازار میں دستیاب ہوں گی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی بیٹریاں نہ صرف انتہائی کم وقت میں چارج ہو جایا کریں گی بلکہ ان کی مدتِ استعمال میں بھی دس گنا اضافہ ہو جائے گا۔

امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے لیتھیم ایئون بیٹریز کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ان میں استعمال ہونے والے عناصر میں تبدیلیاں کی ہیں۔

ایسی ہی ایک تبدیلی کے تحت بیٹری میں لاکھوں انتہائی چھوٹے سوراخ بھی کیے گئے ہیں جبکہ لیتھیم ایئونز کی کمیت اور حرکت ہی اس تکنیک میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق اس انوکھی تکنیک کی مدد سے بنائی جانی والی بیٹریز آئندہ پانچ برس میں بازار میں دستیاب ہوں گی۔

اس تکنیک کے تحت جو بیٹری تیار کی جائے گی وہ مکمل چارج ہونے میں صرف پندرہ منٹ کا وقت لے گی اور اسے ایک ہفتے بعد ہی دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہیرلڈ کنگ اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ صرف بیٹری میں زیادہ ایئون بھرنے کا طریقہ ڈھونڈا ہے بلکہ وہ بیٹری کی تیاری میں استعمال ہونے والے عناصر کی تبدیلی کر کے ان کی حرکت تیز کرنے کے قابل بھی ہوگئے ہیں۔

بیٹری کی ری چارجنگ کی رفتار میں اضافے کے لیے اس میں بیس سے چالیس نینو میٹر چوڑے سوراخ کیے گئے جن سے لیتھیم ایئونز کو زیادہ تیزی سے حرکت کرنے اور چارج محفوظ رکھنے کا موقع ملا۔

اس بیٹری کا نقصان یہ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سو مرتبہ چارج کرنے کے لیے بعد اس کی چارجنگ کی مدت میں اضافہ اور چارج محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

تاہم ڈاکٹر کنگ کے مطابق ڈیڑھ سو مرتبہ چارج کے بعد جو کہ عموماً ایک برس کی مدت میں ہوں گے، یہ بیٹری آج بازار میں موجود لیتھیم ایئون بیٹری سے پانچ گنا زیادہ کارگر ہوگی۔

اسی بارے میں