’سب سے ہلکے‘ میٹیریل کی تیاری کا دعوٰی

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE
Image caption جالی کی کثافت صفر اعشاریہ نو ملی گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے

امریکی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے دنیا کے ’سب سے ہلکے‘ میٹیریل کی تیاری کا دعوٰی کیا ہے۔.

یہ میٹیریل لطیف اور کھوکھلی دھات کی نليوں کو جالي نما طریقے سے بُن کر بنایا گیا ہے۔

محققین کے مطابق یہ سٹائرو فوم سے سو گنا ہلکا ہے اور اس میں توانائی جذب کرنے کی انتہائی صلاحیت ہے۔

اس میٹیریل کو مستقبل کی بیٹریز اور شاک ابزاربرز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس میٹیریل کی تیاری کے لیے کیلیفورنیا یونیورسٹی اروائن، ایچ آر ایل لیبارٹریز اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیكنالوجي میں مشترکہ طور پر تحقیق کی گئی جو بین الاقوامی معروف ہفتہ وار رسالے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیقاتی میم کے ٹوبس شیڈلر کا کہنا ہے کہ ’اسے بنانے کے لئے ضروری یہ ہے کہ کھوکھلی لطیف نليوں سے ایسا جال بنا جائے جس کی موٹائی انسانی بال سے ایک ہزار گنا کم ہو‘۔

اس عمل سے تیار ہونے والی جالی کی کثافت صفر اعشاریہ نو ملی گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے جبکہ دنیا میں اب تک بنائے جانے والے سب سے ہلکے ٹھوس میٹیریل سلیكا ايروجل کی کثافت ایک ملی گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے۔

اس نئے جالي نما میٹیریل میں 99.99 فیصد ہوا ہے اور صرف 0.01 فیصد ٹھوس مادہ ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اسی جالي نما ساخت کی وجہ سے یہ میٹیریل بہت مضبوط بھی ہے۔

ایچ آر ایل لیب میں میٹیریل کی کی تیاری کے کام کے مینیجر ولیم کارٹر نے کہا، ’ايفل ٹاور یا گولڈن گیٹ برج جیسی عمارتیں اپنی ساخت کی وجہ سے کافی ہلکی ہیں۔ ہم ساخت کی اسی طرز کو لطیف چیزوں پر لاگو کر کے ہلکی دھاتوں میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں‘۔

اس نئی جعلی دھات کی مضبوطی پرکھنے کے لیے اس پر اس وقت تک دباؤ ڈالا گیا جب تک کہ وہ اپنی اصل موٹائی کی آدھی نہیں رہ گئی۔ حالانکہ دباؤ ہٹانے پر میٹیریل اپنی اصلی موٹائی کے اٹھانوے فیصد تک واپس پہنچ گیا اور اس کی شکل بھی برقرار رہی۔

سائنسدانوں کے مطابق اس میٹیریل کو تھرمل انسولیشن، بٹريوں اور آواز، تھرتھراہٹ یا جھٹکے برداشت کرنے والی چیزوں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔