’ایڈز سے ہلاکتوں میں اکیس فیصد کمی‘

 ایڈز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یو این ایڈز کے مطابق علاج تک زیادہ رسائی مرض میں کمی کا سبب بنی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ کے مقابلے میں ایڈز کے مرض سے ہلاکتوں کی شرح میں اکیس فیصد کمی ہوئی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایڈز سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار دس میں ایڈز کے مرض میں مبتلا ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد میں بھی اکیس فیصد تک کمی آئی۔

ادارے کے مطابق یہ کمی اس مرض کے علاج تک زیادہ سے زیادہ رسائی کی وجہ سے ممکن ہو پائی ہے۔

یو این ایڈز کے ڈائیریکٹر مچل سڈائیب کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایک اہم کامیابی کے قریب ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’حتٰی کہ بہت مشکل معاشی بحران کے باوجود ممالک نے ایڈز سے متعلق بہترین ردِ عمل پیش کیا۔‘

’ہم نے دیکھا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو ایچ آئی وی کے علاج تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور اس کا تمام لوگوں کی زندگیوں پر ایک متاثر کن اثر پڑا ہے۔‘

ایک حالیہ جائزے کے مطابق ایڈز کا شکار لوگوں کی تعداد تین کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

افریقہ کے صحرائے صحارا کے علاقوں میں بہت زیادہ بہرتی دیکھنے میں آئی ہے جہاں دو ہزار نو اور دو ہزار دس کے درمیان علاج کروانے والے لوگوں میں بیس فیصد اضافہ ہوا۔

یو این ایڈز کے اندازہ کے مطابق سات لاکھ لوگوں کو بہتر علاج کے ذریعے مرنےسے بچایا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے افراد میں بھی کمی آئی کیونکہ متاثرہ افراد جن کا علاج جاری تھا وہ دوسروں کو متاثر کرنے وجہ بہت کم بنے۔

دو ہزار دس میں تقریباً ستائیس لاکھ لوگ ایڈز کا شکار ہوئے لیکن یہ تعداد انیس سو ستاوے سے کم ہے جب بتیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے۔

اسی طرح ایڈز کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی کم ہو کر اٹھارہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ دو ہزار پانچ میں ایڈز کے باعث بائیس لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔

اقوامے متحدہ کے ادارے کے مطابق ’ایچ آئی وی انفیکشنز کی تعداد کم ہو کر تیس سے پچاس فیصد کے درمیان آگئی ہے۔ دنیا بھر میں متاثرہ افراد کے مناسب علاج تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں یہ تعداد بہت زیادہ ہو تی۔‘

اسی بارے میں