پاکستان میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ

Image caption پاکستان میں ملیریا کے سب سے زیادہ کیسز بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں

پاکستا ن دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں ملیریا کے کیسز سب سے زیادہ ہیں۔

پاکستان میں ملیریا سے ہرسال سب سے زیادہ ہلاکتیں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں جبکہ سب سے کم پنجاب میں ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب محمکۂ صحت بلوچستان کے پاس صوبائی اور ضلعی سطح پر ہونے والی ان ہلاکتوں کے اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیوایچ او) کے اعداد وشمار کے مطابق صومالیہ، سوڈان اور یمن کے بعد پاکستان ملیریا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔

پاکستان میں سالانہ تین لاکھ ملیریا کے کیسز سامنے آتے ہیں اور ان میں سے اسی فیصد صرف بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں ہیں کیونکہ وہاں اب تک ملیریا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیراختیار نہیں کی گئیں۔

ڈبلیوایچ او پاکستان کے پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹرقطب الدین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے اب تک ان ادویات کا استعمال جاری ہے جنہیں نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ڈبلیوایچ او نے بھی اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔

ڈاکٹرقطب الدین کے مطابق حاملہ خواتین اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد میں اموات کی وجہ ملیریا ہے۔

اس بارے میں محکمۂ صحت بلوچستان میں ملیریا کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ایوب کاکڑ کا کہنا ہے کہ صوبے کی ایک بڑی آبادی دوردراز علاقوں میں رہتی ہے جہاں لوگوں میں ملیریا کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔

ملیریا کی علامات بتاتے ہوئے ڈاکٹرایوب کاکڑ نے کہا کہ شدید گرمی میں سرد بخار کا ہونا، سر میں شدید درد ہونا، کھانے پینے کودل نہ کرنا اور دن بدن کمزور ہونا ملیریا کی واضح نشانیاں ہیں۔

اس وقت بلوچستان کے تیس اضلاع میں سے اٹھارہ اضلاع ایسے ہیں جہاں ملیریا کی تشخیص کے مراکز موجود ہیں اور ہر مرکز میں سالانہ بیس ہزار ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

بلوچستان کے باقی بارہ اضلاع کے بارے میں صوبائی سیکریٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان اضلاع کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جائیں گے جہاں تشخیصی مراکز موجود نہیں ہیں۔

سیکرٹری صحت نے مزید کہا ہے کہ اس بیماری پرقابو پانے کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔

ان کے مطابق گندگی اور مچھروں سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانی چاہیے۔ ان کے بقول اگر عوام حکومت کے ساتھ تعاون کریں تو سنہ دو ہزار بارہ کے آخرتک بلوچستان میں ملیریا کا خاتمہ ممکن ہے۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں اس موذی مرض پر قابو پانے کے لیے سات کروڑ بیس لاکھ ڈالرمختص کیے ہیں جس میں سے ساٹھ فیصد رقم صرف بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں خرچ کی جائے گی۔

اسی بارے میں