جرمنی: دنیا کا سب سے چھوٹا سٹیم انجن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جرمنی میں سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا سٹیم (بھاپ) سے چلنے والا انجن بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خوردبینی جسامت کا یہ ماڈل رابرٹ سٹرلنگ کے ایک سو پچانوے سال پرانے ڈیزائن کے طرز پر بنایا گیا ہے۔

اس ماڈل میں پسٹنز کی جگہ لیزر کا استعمال کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے یہ تحقیق یونیورسٹی آف سٹٹگارڈ کے میکس پلینک انسٹیٹیوٹ فار انٹلیجنٹ سسٹمز میں کی اور نیچر فزکس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ یہ انجن کس قدر مؤثر طریقے سے حرارت کو قابلِ استعمال طاقت میں تبدیل کرتا ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس انجن کا چلنا ہموار نہیں ہے اور اس وقت اس انجن کا کوئی کارآمد استعمال نہیں ہے۔

روایتی سٹرلینگ انجن میں ایک گیس کا سلنڈر استعمال ہوتا ہے جس کے ایک حصے کو گرم اور دوسرے حصے کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔گیس کے گرم ہو کر پھیلنے اور ٹھنڈی ہو کر سکڑنے کی مدد سے سلنڈر سے منسلک دو پسٹنز کو چلایا جاتا ہے۔

پروفیسر کلیمنز نے بی بی سی کو بتایا ’ہم یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ یہ بنیادی طور پر کیسے کام کرتا ہے اور کیا یہ خوردبینی حد تک چھوٹے آلات میں کام کرتا بھی ہے یا نہیں ۔آج کل ہر کوئی الیکڑانک اور مکینیکل آلات کو چھوٹے سے چھوٹا کر رہا ہے تو ہم نے سوچا کیوں نہ اس اصول کی خوردبینی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔‘