ناقص سلیکون:انٹرپول کو کمپنی کے مالک کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانسیسی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی

انٹرپول نے اس فرانسیسی کمپنی کے بانی کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں جس نے ہزاروں خواتین کو نسوانی حسن میں اضافے کے لیے درکار سلیکون کی ناقص قسم فراہم کی تھی۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ فرانسیسی کمپنی پولی امپلانٹ پروتھیز یا پی آئی پی کے بانی ژان کلاڈ ماس لاطینی امریکی ملک کوسٹریکا میں صحتِ عامہ سے متعلقہ قانونی خلاف ورزیوں کے لیے مطلوب ہیں۔

فرانس اور لاطینی امریکہ پی آئی پی کی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں اور بہّتر سالہ ژان کلاڈ ماس اس وقت منظرِ عام سے غائب ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل فرانس میں حکام اس بات پر غور شروع کر چکے ہیں ان تیس ہزار خواتین کو ناقص سلیکون نکلوانے کا حکم دیا جائے جنہوں نے نسوانی حسن میں اضافے کے لیے چھاتیوں میں پیوند کاری کروائی تھی۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولی امپلانٹ پروتھیز نامی کمپنی کے تیار کردہ ان سلیکونز کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان سے صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

پی آئی پی کے بارے میں پچھلے سال یہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ چھاتیوں کو نمایاں کرنے کے لیے اس سلیکون کی تیاری میں ایک ایسا جیل استعمال کر رہا ہے جس کی قانونی طور پر اجازت نہیں اور اس کے پھٹنے کی شرح غیرمعمولی طور پر زیادہ ہے۔

فرانسیسی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

اسی کمیٹی میں شامل پلاسٹک سرجن ڈاکٹر لارینٹ نے اخبار لبریشن کو بتایا کہ’جن خواتین نے بھی اس سلیکون کی پیوند کاری کروائی ہے، ہمیں ان سب کو ان کے جسموں سے نکلوانا ہوگا، یہ ایک ایسا طبی بحران ہے جس کا تعلق فراڈ سے ہے۔‘

فرانس کی حکومت کی ترجمان نے فرانسیسی ٹی وی کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت اسی ہفتے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

ترجمان کے مطابق ان تمام خواتین کو جنہوں نے پستانوں میں اس سلیکون کی پیوند کاری کروائی ہے انہیں ہنگامی طور پر اپنے سرجنز سے رجوع کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں