چین کا اپنا جی پی ایس سسٹم فعال

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption دسویں بار بیڈو سیٹلائٹ کو اسی ماہ مدار میں بھیجا گیا تھا

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ چین کے بیڈو نامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ( جی پی ایس) نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے اب اس سلسلے میں امریکہ پر چینی انحصار ختم ہوجائےگا۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کے ترجمان ران چینگ کا کہنا ہے کہ یہ جی پی ایس چین اور اس کے آس‎ پاس کے علاقوں میں مقامات، اوقات اور نیویگيشن سے متعلق ڈیٹا کو بخوبی پیش کرتا ہے۔

چین نے امریکی حکومت کے ذریعے چلائے جانے والے ’گلوبل پوزیشنگ سسٹم‘ ( جی پی ایس) کے متبادل کے لیے سنہ دو ہزار میں کام کرنا شروع کیا تھا اور گزشتہ گیارہ برسوں کی محنت کے بعد اسے کامیابی ملی ہے۔

اب چین کا جی پی ایس سے متعلق کاموں کے لیے بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ اسی مقصد کے لیے اس ماہ دسویں بیڈو سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجا گيا تھا۔

اس نئے جی پی ایس نظام سے عام آدمی کو دس میٹر کے فاصلے تک صحیح مقام کا پتہ ہو سکے گا۔ یہ نظام صفر اعشاریہ دو میٹر فی سیکنڈز تک رفتار اور صحیح وقت بھی بتائےگا لیکن چین کی فوج اس سے مزید ڈیٹا حاصل کر سکے گي۔

ایشاء کے دوسرے علاقوں تک اس جی پی ایس نظام کو پھیلانے کے لیے بیجنگ سنہ دو ہزار بارہ تک مزید چھ سیٹلائٹ خلاء میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد دو ہزار بیس تک تقریبا پینتیس سیٹلائٹ کی مدد سے وہ اس نظام کو عالمی سطح پر پھیلائے گا۔

دو ہزار چار میں ایک امریکی ادارے کی تحقیق کے مطابق کسی بھی جنگ کی صورت میں چین اس نظام کو تائیوان پر میزائل داغنے کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔

اب تک چين جی پی ایس کے لیے امریکی نظام پر منحصر تھا اور اب اپنا نظام ہونے سے چین امریکہ کی جانب سے اسے بند کیے جانے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنے سے بچ جائے گا۔

ڈیفینس پالیسی ویب سائٹ کی دو ہزار گيارہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر چین پر بحری حملہ ہو تو وہ اس نظام کی مدد سے ڈرون کے ذریعے سمندری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

لیکن اس کا استعمال عام شہریوں کے لیے بھی مفید ہے اور اس سے عام لوگ بھی اپنے راستے اور رفتار کے تعین کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں