برڈ فلو تحقیق، عالمی ادارۂ صحت کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’تحقیق کے عمل میں خطرات اور مفادات کا توازن رکھنا اہم ہو گیا ہے‘

عالمی ادارۂ صحت نے برڈ فلو کے وائرس، ایچ فائیو این ون، پر اس حالیہ تحقیق کے نتائج کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ محققین برڈ فلو کے وائرس میں ایسی تبدیلیاں کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کے نتیجے میں اب یہ وائرس، پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے، وباء کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

جینیوا میں واقع عالمی ادارۂ صحت کے ہیڈکوارٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تحقیقات کافی خطرناک ہیں اور ان کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے۔

عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے تشویش ظاہر کیے جانے سے قبل امریکہ نے بھی ان محققین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی تحقیق شائع نہ کریں

برڈ فلو، انفلوئنزا کی سب سے خطرناک اقسام میں سے ایک ہے جس کی زد میں آنے والے جانداروں میں سے ساٹھ فیصد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ہالینڈ میں سائنسدانوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اس وائرس کو انسانوں اور دیگر ممالیہ جانداروں میں باآسانی پھیلانے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

ڈبليو ایچ او عام طور پر طبی میدان میں نئی معلومات کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن وہ اس معاملے پر شدید فکرمند ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تحقیق ، جس میں ایچ فائیو این ون کی کوئی خطرناک قسم تیار ہو سکتی ہے ، نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے ، اور اسے اس وقت تک آگے نہیں بڑھانا چاہیے جب تک عام لوگوں کی صحت سے متعلق سارے خدشات کا حل نہ ڈھونڈ لیا جائے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک سینیئر اہلکار، کیجی فوکُودا نے کہا کہ ’ طویل مدت میں ہمیں ایسے سائنسی رجحان سے نجات پانے کی ضرورت ہے جس میں محقق، خطرناک راستوں پر چلنے لگے، اس کے کام کی معلومات غلط ہاتھوں میں لگ جائیں تو نتیجتاً خطرات، پہلے سے زیادہ بڑھ جائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے عمل میں خطرات اور مفادات کا توازن رکھنا اہم ہو گیا ہے۔

سائنسی جریدے سائنس اور نیچر سوائن فلو کے حوالے سے ڈچ لیبارٹری میں کی گئی تحقیق کو شائع کرنے والے ہیں۔ اس لیبارٹری میں سوائن فلو وائرس ایچ فائیو این ون کی جان لیوا یا مہلک قسم تیار کی گئی ہے۔

امریکی حکومت کی کمیٹی نیشنل سائنس برائے حیاتیاتی سکیورٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وائرس سے متعلق معلومات کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کمیٹی نے برڈ فلو سے متعلق تحقیق کی عام معلومات کو شائع کی منظوری دی ہے جن کے تحت سائنسدان کو اس وائرس کے قدرتی طور پر پھیلاؤ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کے روک تھام کا طریقہ دریافت کرنے میں مدد ملے گی۔

ادھر چین کے جنوبی شہر شینزن کے ایک شہری میں، برڈ فلو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہمسایہ ملک ہانگ کانگ نے برڈ فلو کے متعلق الرٹ جاری کیا تھا کیونکہ ایک بازار میں مرنے والی ایک مرغی میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ وائرس کے استعمال اور متعلقہ تحقیق کے میدان میں نئے قوانین کو نافذ کیا جانا چاہیے۔ رواں سال ڈبليو ایچ او کے ایک سو چورانوے رکن ممالک نے وباؤں سے نمٹنے کی تیاری کے بارے میں کچھ اصول تیار کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈبليو ایچ او کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محققین نے ان اصولوں پر سختی سے عمل نہیں کیا۔

اسی بارے میں