بھارت میں کیا 2012 انٹرنیٹ کا سال ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بارہ کڑوڑ سے زیادہ بھارتی شہری انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں

ایک اندازے کے مطابق بارہ کروڑ سے زیادہ بھارتی شہری انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک کثیر تعداد ہے تاہم اب بھی یہ ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔

عام پیشنگوئیوں کے مطابق آئندہ سال میں بھارتی شہریوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے طریقے میں مزید تبدیلی آئے گی۔

بھارتی بلاگ ’اونلیگزمو ڈاٹ کام‘ کے مدیر انکر اگروال کے خیال میں جلد ہی بھارت میں لوگوں سے زیادہ موبائل فون ہوں گے۔

ممبئی کے مضافات میں ایک تنگ سے دفتر میں، ان کے چاروں طرف ڈبے پڑے تھے جن میں جدید ٹیکنالوجی والے آلات تجزیے اور ٹیسٹنگ کے لیے تیار تھے۔

اگرچہ ان کی پیشنگوئی حقیقت سے دور لگتی ہے تاہم اس کا مستقبل قریب میں پورا ہونا بھی ممکن لگتا ہے۔

’ویئر سوشل ڈاٹ نیٹ‘ کے ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں تقریباً نوے کروڑ موبائل فون صارفین ہیں جن میں سے تقریباً تیس کروڑ کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور ٹیلی کام ریگیولیٹری اتھارٹی آف انڈیا کے اندازے کے مطابق آئندہ سال میں بیس کروڑ نئے صارفین موبائل فون کا استعمال شروع کر دیں گے۔

اسی تحقیق کے مطابق چونتیس اعشاریہ چھ ارب صارفین ڈیٹا پیکجز بھی استعمال کرتے ہیں اور ملک کے آدھے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے انٹرنیٹ موبائل فون کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔

انکر اگروال کا کہنا ہے کہ سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ تک رسائی والے فونوں کا بھارت میں بننا اور کم قیمتوں (تقریباً پانچ ہزار بھارتی روپے تک) کی وجہ سے ایسے فون رکھنا آسان ہو گیا ہے۔

تھری جی اور ٹو جی ٹیکنالوجی کے آنے سے بھی موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھے گی مگر ایسی سہولیات کو دیہی علاقوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اور جہاں ایسی سہولیات میسر بھی ہیں تو ان کی قیمت قدرے زیادہ ہے۔

پچاس ڈالر کا ٹیبلٹ

بھارتی حکومت ’آکاش‘ نامی ایک کم قیمت ٹیبلٹ کمپیوٹر ملک بھر کے سکولوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تقریباً پچاس ڈالر قیمت والے اس ٹیبلٹ کو بھارت کے لیے ایک بہت بڑی جدت کہا جا رہا ہے۔

انکر اگروال کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے بچے اپنے تعلیمی نصاب کے بارے میں اطلاعات اپنے ساتھ رکھ سکیں گے۔

لیکن مارکیٹ میں موجود دوسرے ٹیبلیٹ کمپیوٹرز کے مقابلے میں یہ ابھی بھی ایک بنیادی آلہ ہے جس کو ایک مستحکم وائے فائے سگنل اور بجلی کی ضرورت ہے۔ یہ سب بھارت کے دور دراز علاقوں میں اکثر پایا نہیں جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی سیاستدان کاپل سیبھال پچاس ڈالر والی ٹیبلیٹ دکھا رہے ہیں

دو ہزار بارہ کا ایک اہم چیلنج ان علاقوں تک انٹرنیٹ کی سہولت کی رسائی ہے۔

’انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن‘ کے مطابق بھارت کے دیہی علاقوں میں صرف دو فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے اور بھارت کی چونکہ ستر فیصد سے زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے یہ ایک بہت کم تعداد ہے۔

ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پی نیرنجانا کا کہنا ہے کہ اگر آپ دیہی آبادی کو جدید ٹیکنالوجی مہیا کر بھی دیں پھر بھی آپ کو اس کے بارے میں معلومات اور ان کے استعمال کے طریقوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے لیے کسی حد تک تعلیم یا کمپیوٹرز سے آشنائی ضروری ہے اور ابھی اس سلسلے میں کافی کام کی ضرورت ہے۔

ان کے خیال میں دوسرا مسئلہ ان کمپیوٹروں کا ایسی جگہوں پہ نصب ہونا ہے جہاں عوام کے ہر طبقے کے لوگ انہیں استعمال کر سکیں۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً اٹھارہ فیصد بھارتی دیہی انٹرنیٹ صارفین کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے کم از کم دس کلومیٹر پیدل چل کرجانا پڑتا ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں بہت سے لوگ انٹرنیٹ فون پر استعمال کرتے ہیں

رسائی اور پہنچ کے علاوہ بھارت کے انٹرنیٹ استعمال کرنے میں ایک اور تبدیلی صارفین کے مقاصد کی ہے۔ بہتر کنکشنز اور موبائل فونوں اور کمپیوٹروں کے باعث بھارتی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد انٹرنیٹ کو ای میل کے علاوہ چیزوں کے لیے استعمال میں لا رہی ہے۔

دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں سوشل نیٹ ورکنگ اس تبدیلی کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھارت کی مقبول ترین ویب سائٹ اب فیس بک ہے جس کا صرف پچھلے چھ ماہ میں ہی استعمال تینتیس فیصد بڑھ گیا ہے۔

پروفیشنل نیٹ ورکنگ کے ویب سائٹ ’لنکڈ ان‘ کا بھی بھارت میں رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کے صارفین کے تعداد لنکڈ ان کا دوسرا بڑا گروہ ہے۔

بھارت میں مجموعی طور پر انٹرنیٹ کا استعمال کے بڑھنے کی امید ہے لیکن دیہی اور شہری علاقوں کے مختلف مسائل ہی اس کی ترقی کی رفتار اور حد کا تعین کریں گے۔.

اسی بارے میں