جنین کی سست نشوونما اسقاط حمل کی وجہ

Image caption محققین نے حمل کے پہلے سہ ماہی کے دوران پانچ سے زیادہ انفرادی اور جڑواں جنین کی لمبائی ناپی۔

نوٹنگھم یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق حمل کے ابتدائی مراحل میں جنین کے بڑھنے کی رفتار کا اسقاط حمل کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے پایا کہ ایک بچے والے اٹھہتر فی صد حمل اس لیے ختم ہوگئے کیونکہ ان کا جنین صرف پانچ فی صد بڑھ سکا۔

محققین نے حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران پانچ سے زیادہ واحداور جڑواں جنین کی لمبائی کا جائزہ لیا۔

ایک سائنسی ماہر کا کہنا تھا اس مطالعے نے اسقاط حمل سے متعلق ہمارے علم میں مزید اضافہ کیا ہے۔

تحقیق کو لیڈز کی برٹش فرٹیلٹیی سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔

نوٹنگھم کے سائنسدانوں نے آئی وی ایف تکنیک کے ذریعے ایک بچے والے دو سو سیتالیس حمل اور جڑواں بچے والے دو سو چونسٹھ حمل کے جنین کا جائزہ لیا پر نظر رکھی۔ اس تکنیک کے ذریعے انہیں حمل کی صحیح مدت پتہ لگانے میں مدد ملی۔

تحقیق کے دوران ہر حمل کی پیدائش تک نگرانی کی گئی۔

حمل کے دوران جنین کی پیمائش سے محقیقن کو معلوم ہوا کہ حمل کے پہلے بارہ ہفتوں میں جنین کی سُست نشوونما سے اسقاطِ حمل کے خطرے کے بارے میں پیشن گوئی کی جاسکتی ہے۔

محققین نے پایا کہ ایک بچے والے جو حمل ضائع ہوئے ان کے جنین سست رفتار میں بڑھے اور جو حمل ضائع نہیں ہوئے ان کے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔

یہ تحقیق ڈاکٹر شیاملے سر کی قیادت میں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے ’اس تحقیق کی مدد سے ہم اُن حمل کا پتہ لگا سکتے جن کے ساقط ہونے کا خطرہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا ’حمل کی ابتداء میں جنین کے اضافے میں سست روی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بچے دانی میں کوئی مسئلہ یا جنین میں کوئی خرابی یا ابنارملٹی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسقاط حمل اور جنین کے اضافے کے درمیان رشتہ دیکھنے لیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیمبرج میں ایڈنبروکس ہسپتال میں ماہر امراصِ نسواں ڈاکٹر راج ماتھر کا کہنا تھا کہ یہ ایک بے حد اہم تحقیق ہے جو حیاتاتی طور پر چیزوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسقاط حمل کی وجوہات کو سمجھنے کےلیے حمل سے جڑے دیگر مسائل کو بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں