’دفاتر میں زیادہ دیر میز پر نہ بیٹھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دفتروں میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی میز پر زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔

اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دفاتر میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ جن افراد سے روبرو بات کر سکتے ہیں ان کو ای میل کے ذریعے پیغامات نہ بھیجیں۔

برطانوی تحقیق میں متنبہ کیا گیا ہے کہ لوگ اپنا بہت زیادہ وقت اپنی میزوں ہی پر گزارتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لوگ روزانہ چار گھنٹے اور اکتالیس منٹ کرسیوں پر بیٹھے گزارتے ہیں۔

ڈاکٹر میانا ڈنکن کا کہنا ہے ’لوگ اپنی کرسیوں پر بیٹھے اتنا ہی وقت گزارتے ہیں جتنا کہ وہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جو لوگ دفتروں میں میز پر بیٹھے رہتے ہیں وہ ممکنہ طور پر گھر پر بھی بیٹھے رہتے ہیں جس کے وجہ سے وزن بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ایک ہزار سے زیادہ افراد سے انٹرویو اور سروے کیے گئے۔

ڈاکٹر ڈنکن نے کہا ’ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم کتنی دیر کرسی پر بیٹھے رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ماہرِ نفسیات لوگوں کو بتائے کہ تھوڑی دیر بیٹھ کر تھوڑی چہل قدمی ضروری ہے۔ ’اگر ضرورت پڑے تو اپنی میز یا کمپیوٹر پر یاد دہانی کے لیے نوٹ لگایا جا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر ڈنکن نے کہا ’اٹھو اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کرو۔ یہ ای میل کرنے سے بہتر طریقہ ہے۔‘

اسی بارے میں