ملیریا کی جعلی ادویات، لاکھوں جانوں کو خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیال کیا جاتا ہے کہ ملیریا سے ہر سال آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ افریقہ میں جعلی اور غیر معیاری دوائیں ملیریا کے مرض پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے دھچکا ہیں جن سے لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق جعلی دواؤں سے مریضوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ ملیریا کے جراثیم کو دواؤں سے مزاحمت کرنے میں تقویت مل سکتی ہے۔

سائنسدانوں کی یہ تحقیق دوا ساز ادارے ویلکم کے مالی تعاون سے کی گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملیریا سے ہر سال آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ملیریا جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دو اور سنہ دو ہزار دس کے درمیان افریقہ کے گیارہ ممالک سے حاصل کیے گئے دواؤں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

تجزیے کے دوران انکشاف ہوا کہ چند جعلی دواؤں میں طبی مرکب غلط انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جس سے ملیریا کے خاتمے کی بجائے اسے تقویت حاصل ہوتی ہے۔

ملیریا کے مرض میں استعمال کی جانے والی چند گولیوں میں ایسے مرکبات شامل پائے گئے جن کے بعداز علاج انتہائی شدید نقصانات ہوسکتے ہیں اور خاص طور پر اُن افراد میں جو دیگر امراض کے لیے بھی دوائیں استعمال کررہے ہیں جیسے ایچ آئی وی، وغیرہ۔

ملیریا کی جراثیم کُش ادویات کے ایک خاص مدت تک استعمال کے بعد ملیریا کے جراثیم میں ان دواؤں کے خلاف قوتِ مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے۔

اس طرح ماضی میں کلوروکوئین اور میفلوکوئین جیسے ادویات کے ساتھ ہو چکا ہے۔

تحقیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جعلی دواؤں کے باعث ملیریا کے جراثیم میں انتہائی مؤثر دوا آرٹیمی سینن کے خلاف بھی قوتِ مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے جو اس وقت ملیریا کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔

ان کے بقول آرٹیمی سینن کی قلیل مقدار جعلی دواؤں میں شامل کی جاتی ہے تاکہ وہ اصل ہونے کے ٹیسٹ پاس کر سکیں۔

تاہم ان کی جتنی مقدار جعلی دواؤں میں شامل ہوتی ہے وہ جسم میں ملیریا کے جراثیم کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف ناکافی ہوتی ہے بلکہ ملیریا کے جراثیم میں آرٹیمی سینن کے خلاف قوت مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

تحقیق کاروں کے سربراہ ڈاکٹر پال نیوٹن نے افریقی ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ملیریا کے لیے جعلی دواؤں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ان کے بقول ’جعلی دواؤں کے خلاف کارروائی میں تاخیر کی صورت میں لاکھوں افراد خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔‘

اسی بارے میں