’دنیا میں نصف اسقاطِ حمل غیرمحفوظ‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اسقاطِ حمل کے جتنے بھی واقعات ہوتے ہیں ان میں سے قریباً نصف غیر محفوظ طریقے سے سرانجام پاتے ہیں۔

اسی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دنیا کے ان ممالک میں اسقاطِ حمل کی شرح کہیں زیادہ ہے جہاں یہ عمل غیرقانونی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ماؤں کی ہلاکتوں میں سے تیرہ فیصد اسقاطِ حمل کے دوران ہوتی ہیں اور یہ واقعات سب سے زیادہ افریقہ اور جنوبی امریکہ میں پیش آتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسقاطِ حمل کی شرح میں خاصے عرصے سے کمی دیکھی جا رہی تھی تاہم اب ایسا نہیں ہے کیونکہ جنسی تعلق کے دوران حفاظتی تدابیر استعمال کرنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق عالمی طور سے اسقاطِ عمل کی شرح سنہ دو ہزار تین سے دو ہزار آٹھ تک تقریباً یکساں رہی یعنی پندرہ سے چوالیس برس کے درمیان ہر ایک ہزار خواتین میں اٹھائیس اسقاطِ حمل جن کی مجموعی تعداد چار کروڑ اڑتیس لاکھ بنتی ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں سینتالیس ہزار خواتین غیر محفوظ اسقاطِ حمل کے عمل کے دوران ہلاک ہوگئی تھیں جبکہ پچاسی لاکھ دیگر خواتین کو انتہائی پیچیدہ طبی مسائل کا سامنا رہا تھا۔ غیر محفوظ اسقاطِ حمل ایسے ترقی پذیر ممالک میں پیش آتے ہیں جہاں خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل منصوبوں پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ تحقیق جمعرات کو لینسٹ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اسقاطِ حمل کی مغربی یورپ میں شرح بہت کم ہے یعنی ہر ایک ہزار خواتین میں بارہ جبکہ مشرقی یورپ میں ایک ہزار خواتین میں تینتالیس اسقاطِ حمل ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ شرح ہے۔ شمالی امریکہ میں ہر ایک ہزار خواتین میں انیس اسقاطِ حمل ہوتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ایسے ممالک میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل کی شرح زیادہ ہے جہاں اسقاطِ حمل پر قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پچانوے سے ستانوے فیصد غیر محفوظ اسقاطِ حمل ان ہی خطوں میں ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں