سمندری بھنور پانی کا گنبد بن کر نظر آنے لگا

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ قطب شمالی کے سمندر کے مغربی حصے میں تازہ پانی کا ایک ذخیرہ برف کے نیچے اکٹھا ہوتا جا رہا ہے۔ اس ذخیرے کے باعث اسی جگہ پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے پانی کا گنبد بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ سمندری اُبھار آٹھ ہزار کیوبک کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور سنہ دو ہزار دو سے اب تک اس کی سطح میں پندرہ سنٹی میٹر اضافہ ہو چکا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ذخیرے کے بننے کی وجہ تیز ہواؤں سے پیدا ہونے والا ایک سمندری بھنور ہو سکتا ہے جسے بوفورٹ کہا جاتا ہے۔

نیچر سائنس نامی جریدے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ہواؤں کی وجہ سے پانی جمع ہونا شروع ہوسکتا ہے جس سے سمندری سطح بڑھ سکتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ’سنٹر فار پولر اوبزرویشن اینڈ ماڈلنگ‘ کی ڈاکٹر کیتھرین جائلز جو کہ اس تحقیق کی سربراہی کر رہی ہیں، کا کہنا تھا ’مغربی قطب شمالی میں بوفورٹ سمندری بھنور مستقل طور پر طوفان مخالف ہواؤں کی وجہ سے بنتا ہے۔ ان ہواؤں سے پانی سمندری بھنور کے وسط میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جس سے سمندری سطح گنبد نما شکل اختیار کر لیتی ہے۔‘

قطب شمالی کے قریبی علاقوں میں برف کی موٹائی کم ہوتی جا رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے اعداد و شمار کے مطابق بھنور کے وسط میں پانی کا اکٹھے ہونے کا رجحان کناروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔‘

ڈاکٹر جائلز اور ان کے ساتھیوں کے انکشافات یورپی خلائی ایجنسی کی ریڈار سیٹلائٹ کی مدد سے کیے گئے ہیں۔

یہ سیٹلائٹ بڑے پیمانے پر برف سے ڈھکے ہونے کے باوجود سمندری سطح کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ برف میں پڑے شگاف کا پتہ لگانے کے قابل ہے۔

سنہ انیس سو پچانوے سے سنہ دو ہزار دس تک جمع کیے گئے ان اعداد و شمار کے مطابق بوفورٹ بھنور میں پانی کی مقدار بڑھ رہی ہے ، خاص طور پر دو ہزار کی دہائی میں اس کا بڑھنا زیادہ رہا ہے۔ اس کی سطح میں سالانہ دو سنٹی میٹر کا اضافہ ہو رہا ہے۔

سمندری سطح سے متعلق دیگر تحقیقات سے پہلے ہی واضح ہو چکا ہے کہ قطب شمالی کے سمندر میں تازہ پانی بڑھتا جا رہا ہے۔

سب سے زیادہ تازہ پانی اس سمندر میں روسی دریاؤں کے ذریعے آتا ہے۔

ہواؤں اور لہروں کے ذریعے یہ تازہ پانی پورے سمندر میں پھیلنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ بھنور میں کھینچا چلا جاتا ہے۔ اس وقت پورے سمندر میں تازہ پانی کے حجم کا دسواں حصہ اس بھنور میں پایا جاتا ہے۔

مستقبل کی نظر سے دیکھا جائے تو اہم بات یہ ہے کہ طوفان مخالف ہوائیں جن سے پانی کا یہ گنبد تشکیل پایا ہے، اگر ان کے چلنے میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو کیا ہوگا۔

ڈاکٹر جائلز کا کہنا تھا ’ہمارے مشاہدے موسمی تبدیلوں کے بارے میں کی گئی پیش گوئیوں کے عین مطابق ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’گھڑی کی سوئیوں کے رخ میں جب پانی کا بھنور چلتا ہے تو تازہ پانی وسط میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر اس رخ کے مخالف بھنور چلتا ہے تو تازہ پانی سمندر کے کناروں کی جانب چلا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’اگر پانی کا رخ بدلتا ہے تو یہ تازہ پانی سمندر کے باقی حصوں میں پھیل سکتا ہے بلکہ اس سمندر سے نکل کر بحر اوقیانوس میں بھی جا سکتا ہے۔‘

اگر یہ تازہ پانی بڑی مقدار میں بحر اوقیانوس میں جا گرتا ہے تو خدشہ یہ ہوگا کہ یہ سمندری لہروں کا تسلسل خراب نہ کر دے جس کا یورپی موسمیات پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ لہریں زمین کے خطِ استوا کے قریب سے گرم پانی کو کھینچ کر سمندر کے شمالی حصوں میں لے کر جاتی ہیں جو ان کے بغیر شدید ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔

گزشتہ پندرہ برس میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بوفورٹ بھنور کے بڑھنے کا رجحان صرف پچھلے سات سے آٹھ سال پرانا ہے۔

اسی بارے میں