’الٹرا ساؤنڈ منعِ حمل کے لیے مؤثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دانستہ حمل کو روکنے پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق خصیوں کے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے مادہ تولید کی پیدا وار کو روکا جا سکتا ہے۔

ریپروڈکٹو بیالوجی اینڈ اینڈوکرونولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے دانستہ حمل کو روکنے کے لیے ’الٹراساؤنڈ‘ کو اہم قرار دیا ہے۔ تاہم اس تکنیک کو استعمال کرنے کے لیے ابھی بہت سے تجربات کی ضرورت ہے۔

اس تجویز پر تحقیق کی ضرورت سب سے پہلے ستّر کی دہائی میں سامنے آئی تاہم اب محققین کو یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا میں بِل اور میلنڈہ گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے اس پر مزید تحقیق کے لیے امداد دی گئی ہے۔

محققین کے مطابق پندرہ منٹ کے دوران دو بار خصیوں کا الٹرا ساؤنڈ کرنے سے مادہ تولید کی پیداوار میں بڑی حد تک کمی دیکھی گئی۔

ان کے مطابق الٹرا ساؤنڈ اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے جب اسے دو مختلف دنوں کے دوران نیم گرم نمکین پانی کے ذریعے کیا جائے۔

محققین کے مطابق انسانوں خصوصاً مردوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک ملی لیٹر قطرے میں ڈیڑھ کروڑ سپرم نہ آئیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص بچہ پیدا کرنے کی صرف جزوی صلاحیت رکھتا ہے۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ میں سینئیر لیچکرار ڈاکٹر ایلن کے مطابق ’یہ ایک بہترین تجویز ہے تاہم اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں