’ملیریا سے ہلاکتیں اندازے سے کہیں زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption دنیا میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی شرح میں کمی ہو رہی ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں ملیریا کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سابقہ اندازوں سے دوگنا ہو سکتی ہے۔

برطانوی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی اس بیماری سے بارہ لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

عالمی ادارۂ صحت نے اسی عرصے میں ملیریا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ لاکھ پچپن ہزار بتائی تھی۔

تاہم اس نئی تحقیق اور عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی شرح میں کمی ہو رہی ہے۔

ملیریا پر اس نئی تحقیق کے لیے رقم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے مہیا کی تھی اور اس میں نیا ڈیٹا اور نئی کمپیوٹر ماڈلنگ کی مدد سے سنہ انیس سو اسّی سے دو ہزار دس تک ملیریا کے متاثرین کا ایک ڈیٹا بیس تشکیل دیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق سنہ انیس سو اسّی میں دنیا میں ملیریا سے مرنے والوں کی تعداد نو لاکھ پچانوے ہزار تھی جو دو ہزار چار میں اٹھارہ لاکھ بیس ہزار تک پہنچ گئی اور دو ہزار دس میں یہ کم ہو کر بارہ لاکھ چالیس ہزار رہ گئی ہے۔

ملیریا سے ہلاکتوں میں کمی کی وجہ افریقہ میں اس بیماری پر قابو پانے میں کامیابی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ افریقہ میں اس بیماری سے ہلاک ہونے والے زیادہ تر چھوٹے بچے تھے لیکن محققین کو پتہ چلا کہ بڑی عمر کے بچوں اور بالغ افراد میں شرحِ اموات بھی بڑھی ہے۔

لینسٹ کے مدیر رچرڈ ہورٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس اس وقت ملیریا سے ہونے والی ہلاکتوں کی قابلِ بھروسہ بنیادی تعداد نہیں ہے اس لیے یہ جو اعدادوشمار ہیں یہ اندازوں پر مبنی ہیں‘۔

ان کے مطابق ’اس تحقیق میں ملیریا سے ہونے والی ہلاکتوں کا اندازہ لگانے کا نیا طریقہ پیش کیا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں