نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت، بڑی وجہ انفیکشن

Image caption جہاں زیادہ تر زچگیاں گھروں پرانجام پاتی ہیں وہاں غیرتربیت یافتہ دائیوں اورنامناسب طریقہ کار کے باعث انفیکشن کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور ان میں سے ایک تہائی ہلاکتیں انفیکشن کے باعث ہوتی ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق یہاں پیدا ہونے والے ہر دس ہزار میں سے ترپّن بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جہاں زیادہ تر زچگیاں گھروں پر انجام پاتی ہیں وہاں غیر تربیت یافتہ دائیوں اور نامناسب طریقۂ کار کے باعث انفیکشن کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بہت سے دیہی علاقوں میں پیدائش کے بعد نال ( ناف) کاٹنے کے لیے جراثیم سے پاک آلے کا استعمال نہیں کیا جاتااور نال پر راکھ، سرمہ، تیل بلکہ گائے کا گوبر تک لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے انفیکشن اور موت کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔

جنوری 2008 سے جون 2009 کے دوران پیدا ہونے والے دس ہزار بچے اس تحقیق میں زیر مطالعہ رہے اور ان بچوں کو چار گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

تحقیق کاروں نے نال کی دیکھ بھال کے چار طریقے استعمال کیے جن میں تین طریقے اس تحقیق میں تجویز کیے گئے تھے جبکہ چوتھا طریقہ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او کا تجویز کردہ تھا۔

اس مطالعے کا مقصد ان تمام طریقوں کی افادیت کا جائزہ لینا اور موازنہ کرنا تھا۔ پہلے گروہ کو برتھ کٹس (زچگی کے عمل کے لیے ضروری اشیا کی کٹس) فراہم کی گئیں۔ اس کٹ میں چار فیصد کلورو ہیگزیڈین نامی جراثیم کش محلول ہوتا ہے۔

پیدائش کے فوراً بعد دائی یہ محلول نال پر لگاتی ہے جبکہ اگلے چودہ دن تک یہ عمل گھر کا کوئی اور فرد انجام دے سکتا ہے۔ اس کٹ میں جراثیم کش محلول کے علاوہ صابن اور ہاتھوں کو صاف رکھنے کے بارے میں معلوماتی مواد بھی شامل ہوتا ہے۔

دوسرے گروہ کو محض جراثیم کش محلول دیا گیا اور تیسرے گروہ کو صرف ہاتھ دھونے سے متعلق اشیا دی گئیں۔ چوتھے گروہ کو ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ نال کی دیکھ بھال کے معیاری طریقہ یعنی ڈرائی کورڈ کیئر پر عمل کرنے کو کہا گیا۔

مطالعے سے ظاہر ہوا کہ وہ گروہ جس نے جراثیم کش محلول سے نال کی صفائی کا طریقہ اختیار کیا اس میں انفیکشن کے باعث اموات میں اڑتیس فیصد کمی آئی تاہم محض ہاتھ دھونے سے انفیکشن یا ہلاکتوں کی شرح میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آغا خان یونیورسٹی کے ڈویژن آف ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے سربراہ اور اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ گھروں میں شدید انفیکشن کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی بڑی تعداد میں اموات کے حوالے سے اس تحقیق نے نہ صرف اس بات کے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ جراثیم کش محلول کے استعمال جیسے سادہ اور کم خرچ طریقے کا استعمال بچوں کی زندگی بچا سکتا ہے بلکہ پیدائش کے لیے استعمال ہونے والی کٹس زچگی میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

’ اگر یہ طریقہ مقامی آبادیوں اور سرکاری ہسپتالوں میں استعمال کیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہوسکتے ہیں، یہ حقائق جنوبی ایشیا کے ان علاقوں میں بھی عوامی صحت کے شعبے میں اہم اثرات مرتب کریں گے جو مماثل ثقافتی، سماجی اور معاشی خصوصیات کے حامل ہیں‘۔

تحقیق کاروں نے تجویز پیش کی کہ ان طریقوں کو حکومت پاکستان کے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری کیئر پروگرام کے ان طریقوں میں شامل کیا جاسکتا ہے جو لیڈی ہیلتھ ورکرزانجام دیتی ہیں۔

یہ آزمائشی مطالعہ سندھ کے ضلع دادو میں کیا گیا۔ وسائل کی کمی کا شکار یہ دیہی ضلع دس لاکھ آبادی پر مشتمل ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے ہر دس ہزار بچوں میں سے نوّے بچے ہلاک ہو جاتے ہیں، اسّی فیصد سے زائد زچگیاں گھروں پر دائیوں کے ذریعے انجام پاتی ہیں اور تقریباً نوے فیصد گھرانوں میں روایتی طریقوں کے مطابق نال پر سرمہ یا دیگر اشیا لگائی جاتی ہیں۔

پاکستان انیشی ایٹیو فار مدرز اینڈ نیوبورنز (پیمان) اور جان سنو انکارپوریٹڈ نے اس تحقیق کے لیے تعاون کیا جبکہ یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (یو ایس ایڈ)نے مالی معاونت فراہم کی۔

اسی بارے میں