بروقت دوا کی فراہمی کے لیے مائیکرو چِپ

Image caption یہ چِپ، آئندہ دس سالوں میں مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے انہیں اِس مائیکروچِپ کی ابتدائی آزمائش میں مثبت نتائج ملے ہیں جو مریضوں کو دوا کی درست مقدار بروقت دے سکتی ہے۔

آزمائش کے دوران، میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے یہ چِپ ہڈیوں کی بیماری اسٹیو پوروسِز سے متاثرہ چند خواتین کی جلد میں نصب کی۔

ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلنے والی چِپ نے عین اُس وقت مریضوں کے جسم میں دوا داخل کی جب اُس کی درکار مقدار کم ہو گئی۔

طبی آزمائش کے دوران اس کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے اور ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ دوا دینے والی یہ چِپ، آئندہ دس سال میں مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

تجربات کے دوران یہ تین ضرب پانچ سنٹی میٹر کی چپ مریضاؤں کے پیٹ میں نصب کی گئی۔

اس چپ میں دوا کو پلاٹینم اور ٹائٹینیئم کے جھلیوں میں رکھا جاتا ہے اور یہ دوا جسم میں صرف اسی وقت داخل ہو سکتی ہے جب معمولی برقی جھٹکے کی مدد سے یہ جھلی توڑ دی جائے۔

سائنسدانوں کے مطابق جب دوا درکار ہو تو ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبانے کے پچیس مائیکروسیکنڈ بعد ہی یہ جھلی ٹوٹ جاتی ہے اور دوا مریض کے جسم میں پہنچ جاتی ہے۔

امریکہ کی نیشنل اوسٹیو پوروسز سوسائٹی کی جولیا ٹامسن کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ ایک چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیق ہے لیکن اس کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں‘۔