انسانوں کی طرف ڈالفن کو شخصیت مانا جائے: سائنسدان

دنیا میں سائنسدانوں کی سب سے بڑی کانفرنس میں تجویز کیاگیا ہے کہ سمندری مخلوق ڈالفن اور وہیل کو ’غیر انسانی شخصیت‘ تسلیم کرتے ہوئے اس کی زندگی اور آزادی کو تحفظ ہونا چاہیے۔

کینیڈا کے شہر وینکور میں امریکن ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ سائنسز کانفرنس میں ماہرین فلسفہ، جانوروں کے تحفظ اور جانوروں کے رویوں کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈالفن اور وہیل کے حقوق کا ڈیکلریشن پیش کیا جانا چاہیے۔امریکن ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ سائنسز دنیا میں سائنسدانوں کی سب بڑی کانفرنس تصور کی جاتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالفن اور وہیل اپنی ذہانت کی بنا کر اس طرح کے اخلاقی حقوق کی حقدار ہیں جس طرح انسانوں کے حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کے خیال میں اگر ایسا ہو گیا تو پھر وہیل اور ڈالفن کو ہلاک کرنے، قید میں رکھنے یا پھر انہیں تفریحی مقاصد کےلیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

ڈالفن اور وہیل کے حقوق کا مطالبہ برسوں کی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ ڈالفن اور وہیل کا دماغ بڑا اور پیچیدہ ہے اور وہ انسان کی طرح اپنے وجود سے آگاہ ہیں۔

اخلاقیات کے ماہر ٹام وائٹ نے کہا ہے کہ ڈالفن ’غیر انسانی ذات‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک منفرد ذات ہو۔’جب کسی کو منفرد ذات مان لیا جاتا ہے تو پھر ایسی منفرد شخصیت کو بلاجواز ختم کرنا غیر اخلاقی عمل تصور کیا جاتا ہے۔‘

اخلاقی ضابطہ کے ماہر کا کہنا ہے کہ ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ڈالفن اور وہیل انسانی کی طرح اپنی منفرد شخصیت سے اگاہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ ڈالفن اور وہیل اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ کر خود کو پہچان لیتی ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے کچھ ایسی شہادتیں اکٹھی کی ہیں جس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ڈالفن اور وہیل ’غیر انسانی شخصیت‘ کا درجہ دیے جانے کی مستحق ہیں۔ سائسندان اپنے مطالبے کے جواز میں یہ شہادتیں پیش کرتے ہیں:

پیٹیگونیا میں ایک ِکلر وہیل کا جبڑا زخمی تھا اور وہ اپنے لیےخوارک کا بندوبست نہیں کر سکتی تھی۔ وہیل کے ایک گروہ نے اس عمر رسیدہ وہیل کو نہ صرف خوراک مہیا کی بلکہ اسے اس وقت تک زندہ رکھا جب تک اس کا جبڑا ٹھیک نہیں ہو گیا۔

ایک تحقیقی تجربے کے دوران ڈالفن کا ایک گروہ محقیقین کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ انہیں اس سوال کا جواب معلوم نہیں اور اگلا سوال پوچھا جائے۔

ایک تجربے کے دوران ڈالفن کو اپنے ٹینک کو صاف رکھنے کے عوض انعام میں مچھلی دی جاتی تھی۔ ایک ڈالفن نے بار بار مچھلی کا انعام جیتنے کے لیے کاغذ کے ایک بڑے بیگ کو پھاڑ کر اس کے پرزے اپنے پاس چھپا کر رکھ لیے اور پھر مچھلی کا انعام جیتنے کے لیے ایک ایک ٹکرا پیش کرتی تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آئسلینڈ میں وہیل مچھیروں کو مچھلیاں پکڑنے میں مدد دیتی ہے اور اپنی اجرت وصول کرتی ہے۔

وہیل مچھیروں کو بتاتی ہے کہ وہ کہاں جال پھینکیں اور جب مچھلیاں جال میں پھنس جاتی ہیں تو وہ اپنی اجرت کے طور پر پکڑی جانے والی مچھلیوں میں سے کچھ حصہ لیتی ہے۔