دور دراز آبی دنیا دریافت

نودریافت سیارہ
Image caption نودریافت سیارہ بہت گہرے دھویں سے ڈھکا ہوا ہے

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر ایک نئی قسم کے سیارے کی دریافت کی تصدیق کی ہے جس کی فضا گہرے دھوئیں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جو دراصل آبی دنیا ہے۔

نظام شمسی سے باہر کا یہ سیارہ جس کو GJ 1214b کانام دیا گیا ہے کو سپر ارتھ قرار دیا جارہا ہے یعنی جو جسامت میں زمین سے تو بہت بڑا ہے لیکن گیسوں سے بنے بہت بڑے سیاروں مثلاً عطارد وغیرہ سے چھوٹا ہے۔

ہبل کی فلکی دوربین کو استعمال کرتے ہوئے کیے جانے والے مشاہدات سے تصدیق ہوئی ہے کہ نئے سیارے کے حجم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

اس سیارے کا بلند درجۂ حرارت اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ وہاں مقامی مادے موجود ہوسکتے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے سمتھسونین سینٹر برائے فلکی طبیعات کے محقق زیکرے برٹا کے مطابقGJ 1214b ایک منفرد سیارہ ہے جس کی اب تک کوئی مثال نہیں ملتی۔

GJ 1214b کو زمین پر نصب دوربینوں کے ذریعے سن دوہزار نو میں دریافت کیا گیا تھا۔

اس کا حجم تو اندازاً زمین سے پونے تین گنا زیادہ ہے لیکن وزن سات گنا ہے۔ یہ اپنے سورج کے گرد صرف بیس لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر مدار میں گھوم رہا ہے اور سیارے کا درجۂ حرارت دو سو ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں ماہرینِ فلکیات نے اس سیارے کی پیمائش جاری کی اور یہ بھی بتایا کہ GJ 1214b کی فضا پانی سے بنی ہے لیکن ساتھ ہی نظام شمسی کے سیارے زحل اور اس کے چاند ٹائی ٹان کی مانند اس سیارے کے گہری دھند میں چھپے ہونے کا بھی امکان ہے۔

ابتدائی پیمائشوں کے مطابق سیارے پر آبی کہر کی کثافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ GJ 1214b پر شائد زمین سے بھی زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سیارے کا اندرونی ڈھانچہ زمین سے مختلف ہوگا۔

اسی بارے میں