آٹھ گھنٹے کی مسلسل نیند، وہم یا حقیقت

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

ہم اکثر آدھی رات کو نیند کھل جانے پر فکر مند ہوجاتے ہیں لیکن یہ ہمارے لیے اچھا بھی ہو سکتا ہے۔ سائنس اور تاریخ دونوں سے حاصل ہونے والے شواہد سے پتہ چلا ہے کہ آٹھ گھنٹے کی مسلسل نیند شاید غیر فطری ہے۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں ماہرِ دماغی امراض تھامس ویہر نے ایک تجربہ کیا جس میں لوگوں کے ایک گروہ کو ایک ماہ تک چودہ گھنٹے تک اندھیرے میں رکھا گیا۔

ان لوگوں کی نیند کو باقاعدہ کرنے میں کچھ وقت لگا لیکن چوتھے ہفتے تک یہ لوگ مختلف اوقاتِ کار میں سونے کے عادی ہو گئے۔

یہ لوگ پہلے چار گھنٹے تک سوئے اور پھر جاگ گئے۔ دو گھنٹے کے بعد انہوں نے دوبارہ چار گھنٹے کی نیند لی۔

سونے سے قبل تیز روشنی سے نیند متاثر

نیند کے بارے میں خواتین کی غلط فہمی

گو کہ نیند سے متعلق تحقیق کرنے والے سائسندانوں نے اس مطالعے کو کافی متاثر کن قرار دیا ہے تاہم عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آٹھ گھنٹے کے مسلسل نیند نہایت ضروری ہے۔

دو ہزار ایک میں ورجینیا ٹیک کے ایک تاریخ دان راجر ایکریچ نے سولہ سالہ تحقیق کے بعد ایک سیمینل پیپر شائع کیا جس میں ایسے بے شمار شواہد ملتے ہیں جن کے مطابق انسان دو مختلف مراحل میں سویا کرتے تھے۔

ڈاکٹر ویہر کے تجربے میں لوگ اندھیرا ہونے کے دو گھنٹے بعد سو گئے۔ جاگنے پر دو گھنٹے تک چہل قدمی کی اور دوبارہ سوگئے۔

تجربے میں شامل لوگ چہل قدمی کے وقت کافی چُست تھے۔ یہ لوگ اکثر جاگنے پر بیت الخلاء جاتے یا تمباکو نوشی کرتے۔ بعض تو ہمسائے کا چکر بھی لگا آتے۔ زیادہ تر لوگ بستر پر ہی رہے اور اس دوران پڑھائی کی، کچھ لکھا یا پھر عبادت کی۔

پندرہویں صدی میں خاص طور پر نیند کے درمیانی اوقات کے لیے عبادتوں سے متعلق ان گنت کتابچے ملتے ہیں۔

ان گھنٹوں میں یہ لوگ مکمل طور پر تنہا نہیں ہوتے تھے۔ اس دوران اکثر لوگوں نے اپنے ہم بستروں سے بات چیت کی یا جنسی تعلق قائم کیا۔

تاریخ دان راجر ایکریچ کے مطابق دو حصوں میں نیند لینا سترہویں صدی کے آخر میں جا کر ختم ہونا شروع ہو گیا۔ یہ طریقہ شمالی یورپ کے شہری امراء میں شروع ہوا اور اگلے دو سو برسوں میں باقی کے تمام مغربی معاشرے میں پھیل گیا۔ انیس سو بیس کی دہائی میں دو مرتبہ تھوڑی تھوڑی نیند لینا معاشرتی رویے سے بالکل ہی معدوم ہو گیا۔

آج زیادہ تر لوگوں نے آٹھ گھنٹے کی بھرپور نیند کو اپنا لیا ہے لیکن راجر ایکریچ سمجھتے ہیں کہ نیند سے جڑے کئی مسائل کا تعلق شاید مختلف مرحلوں میں سونے کے انسانی جسم کے اس قدرتی طریقہء کار اور مصنوعی روشنی کے ہر جگہ موجود ہونے سے ہے۔

راجر ایکریچ کا خیال ہے کہ ’سلیپ مینٹیننس انسومنیا‘ کی حالت کا تعلق بھی اسی سے ہے، جس میں لوگ رات کو نیند سے جاگ جاتے ہیں اور انہیں دوبارہ سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔

اس حالت کا تحریری ذکر انیسویں صدی کے آخر میں ملتا ہے اور یہی وہ دور ہے جب دو حصوں میں سونے کا طریقہء کار معدوم ہوا۔

نیند کے ماہرِ نفسیات گریج جیکبز کا کہنا ہے کہ ’ہم زیادہ تر ایک ہی طریقے سے سوتے ہیں۔ رات کو اٹھنا ایک معمولی بات ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ خیال کہ ہمیں لازماً بلا تعطل نیند لینا ہے نقصان دہ بھی سو سکتا ہے۔‘

تاہم اب بھی کئی ڈاکٹر یہ تسلیم نہیں کر پائے کہ آٹھ گھنٹے کی نیند غیر فطری ہے۔

آکسفورڈ میں اعصاب سے متعلق علوم کے پروفیسر رسل فوسٹر کا کہنا ہے کہ ’ تیس فیصد سے زائد بیماریوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح نیند سے ہوتا ہے لیکن نیند کو طبی تربیت میں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ بہت کم ایسے ادارے ہیں جہاں نیند کے بارے میں تعلیم دی جا رہی ہے۔‘

اسی بارے میں