ایورسٹ: بلندی کا تنازع، عالمی مدد درکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو دنیا کے سب سے بلند پہاڑ کوہ ہمالیہ یا ماؤنٹ ایورسٹ کی درست بلندی کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد درکار ہے۔

اگرچہ چین کا اس بارے میں اپنا موقف ہے کہ کس طرح سے اس چوٹی کی پیمائش کی جانی چاہیے لیکن دوسرے ممالک دو ہزار دس میں نیپال کی اس پیمائش سے متفق ہیں کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر یا انتیس ہزار انتیس فٹ ہے۔

لیکن یہ تنازع کبھی بھی پوری طرح حل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے اور خطے میں ارضیاتی تبدیلیوں نے ابہام میں اضافہ کر دیا ہے۔

ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ براعظم میں زمین کی پلیٹوں کے کھسکنے کی وجہ سے بھارت آہستہ آہستہ چین اور نیپال کے اندر دھنس رہا ہے جس کے باعث کوہِ ہمالیہ کی بلندی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اب نیپال کی حکومت چاہتی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی سرکاری طور پر دوبارہ پیمائش کے حوالے سے بین الاقوامی برادری اس کی مدد کرے۔

بیرونی امداد، مہارت اور آلات کی مدد سے امید کہ آئندہ آنے والے سالوں میں بلندی کا مسئلہ بلآخر حل کر لیا جائے گا۔

نیپال کے محکمہ سروے کے ڈائریکٹر جنرل کرشنا راج نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہمارے پاس اپنے طور پر اس کام کی گنجائش نہیں ہے اور امداد کی درخواست کے ساتھ اس منصوبے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور اس کو جلد ہی ان کو بھیج دیا جائے گا۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو تین سال پہلے تیار کیا گیا تھا لیکن ابھی بھی بہت سارا کام کرنا باقی ہے۔

کرشنا راج نے مزید کہا کہ’مالی وسائل اور ٹیکنالوجی بڑی رکاوٹیں ہیں، ہمارے پاس ایسے آلات نہیں ہیں جو منفی پینتالیس ڈگری درجہ حرارت پر کام کریں۔‘

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش کے حوالے سے ڈنمارک کی ایک یورنیورسٹی اور ایک اطالوی غیر سرکاری ادارہ پہلے سے ہی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے پاس محدود مالی وسائل اور صلاحیت ہے اور اس کام کے لیے بین الاقوامی مدد کی مزید ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Royal Geographical Society
Image caption دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی کا تنازع ایک سو پچاس سال سے حل طلب ہے

چین اور نیپال کے درمیان ایک عرصہ سے اس کی اونچائی کے بارے میں اختلاف ہے اور چین کے اختلاف کی وجہ سے ماؤنٹ ایورٹ کی دوبارہ پیمائش کی ضرورت پیش آئی۔

چین کا کہنا ہے کہ کوہِ ہمالیہ کی اونچائی کی پیمائش اس کی چٹانوں تک ہی کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب نیپال کا کہنا ہے کہ اس کی اونچائی کی پیمائش اس پر جمی برف سمیت کی جانی چاہیے جو تقریباً چار میٹر بلند ہے۔

دنیا کا بلند ترین پہاڑ دونوں ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔

گزشتہ سال نیپال نے ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ پہاڑ کی بلندی کے حوالے سے ابہام کو دور کیا جا سکے۔

اس پہاڑ کی پہلی مرتبہ پیمائش سنہ اٹھارہ سو چھپن میں کی گئی تھی۔ موجودہ تسلیم شدہ آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر بلندی کی پیمائش پہلی بار سنہ انیس سو پچپن میں بھارتی سروے میں کی گئی تھی۔

مئی انیس سو ننانوے میں ایک امریکی ٹیم نے جی پی ایس ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے کوہِ ہمالیہ کی بلندی آٹھ ہزار آٹھ سو پچاس میٹر ریکارڈ کی تھی جو امریکہ کی نیشنل جیوگرافک سوسائٹی بھی تسلیم کرتی ہے لیکن نیپال نے اِسے سرکاری طور سے تسلیم نہیں کیا۔

اسی بارے میں