پاکستانی بچی کے دل پر کامیاب تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلی بار اتنی کم عمر مریضہ میں یہ آلہ لگایا گیا ہے

پاکستان میں پہلی بار بچوں میں دل کی دھڑکن کی رفتار جانچنے کا آلہ نصب کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

کراچی کی آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والے اس کامیاب آپریشن میں ڈاکٹروں نے ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والی چودہ سالہ نائلہ بگٹی کے دل میں امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈی فبریلیٹر یعنی آئی سی ڈی لگایا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان میں یہ آلہ صرف بڑوں میں لگایا جاتا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نائلہ بگٹی پیدائشی طور پر کیو ٹی سینڈروم نامی مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک ایسا موروثی مرض ہے جس سے دل کا برقی نظام متاثر ہوتا ہے اور دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔

دل کے امراض کے ماہر اور اس تجربے کے نگران ڈاکٹر عامر حمید خان نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ چونکہ نائلہ شدید خطرے کا شکار تھی اس لیے انہیں سب سے چھوٹے سائز کا آئی سی ڈی لگانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس تجربے کے بعد نائلہ کی حالت بہتر ہوگئی ہے۔

پاکستان میں پہلے بھی بالغ افراد میں آئی سی ڈی لگایا جاتا رہا ہے تاہم پہلی بار اتنی کم عمر مریضہ میں یہ آلہ لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عامر حمید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے اس آپریشن کے لیے مہارت موجود نہیں تھی اور دوسرا اگر شریان کے ذریعے یہ آلہ لگایا جائے تو بچے کی نشوونما کی وجہ سے تار چھوٹی پڑ جاتی ہے۔

’ ایسی صورت میں باہر سے آئی سی ڈی ڈالی جاتی ہے جس کے لیے باہر سے سینہ کھولنا پڑتا ہے اور یہ کام سرجن کام کرتا ہے اور میں نے جو آلہ ڈالا ہے وہ کارڈیولوجسٹ ڈالتا ہے۔ اسے شریان کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہی ہے کہ نائلہ کی اب مزید گروتھ نہیں ہوگی‘۔

ماہرین کے مطابق آئی سی ڈی دل کی رفتار معمول پر رکھنے کا آلہ ہے جو بیٹری کی مدد سے کام کرتا ہے، یہ آلہ ایسے مریضوں میں لگایا جاتا ہے جن میں دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے باعث اچانک موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ دل کا یہ ہی عارضہ نائلہ کی تین بڑی بہنوں کی جان لے چکا ہے۔

نائلہ کے والد رفیق بگٹی کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بگٹی قبیلے کے دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ اسٹامپ وینڈر ہیں۔

رفیق بگٹی نے بتایا کہ نائلہ کی دل کی دھڑکن تیز رہتی تھی اور وہ کبھی دائیں تو کبھی بائیں طرف تکلیف کی شکایت کرتی رہتی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس مرض کی نشانی یہ ہے کہ بچے پر غشی طاری ہوجاتی تھی، نائلہ تین بار بے ہوش ہوئیں۔

آئی سی ڈی کی مالیت آٹھ لاکھ رپے ہے اور اس علاج معالجے کے بیشتر اخراجات رفیق بگٹی نے ہی ادا کیے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے بھی رفیق بگٹی کی مالی معاونت کی تھی جس کے بعد وہ اپنی بچی کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئی سی ڈی دل کی رفتار میں ہونے والی بے قاعدگی کی نگرانی اور نشاندہی کرتا ہے اور دل کی رفتار بے قاعدہ ہونے کی صورت میں کم توانائی کی حامل دھڑکنیں پیدا کرتا ہے۔

آغا خان یورنیورسٹی کے ڈاکٹر عامر حمید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحت سے متعلق اعداد جمع نہیں کیے جاتے، اس لیے یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ اس مرض میں کتنے لوگ مبتلا ہوسکتے ہیں مگر یہ ایک موروثی بیماری ہے۔