استعمال شدہ پانی سے بجلی بنانے کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بجلی بنانے کی اس ترکیب کو ریڈ یعنی ’ری ورس الیکٹرو ڈائلیسز‘ کہا جاتا ہے

امریکہ میں محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی تجرباتی مشین بنائی ہے جس کے ذریعے استعمال شدہ پانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ اس مشین کے ذریعے نہ صرف بجلی پیدا کی جا سکے گی بلکہ بجلی کے ساتھ ساتھ یہ مشین بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیے جانے والے پانی کو صاف کرنے کا کام بھی سرانجام دے گی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ مشین ترقی پذیر ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

اس ایجاد کے بارے میں مزید تفصیلات سائنس نامی جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ہالینڈ میں سائنسدان پچھلے کئی برسوں سے ملک کے ساحلی علاقے میں ایک ایسی ترکیب کو استعمال میں لانے کی کوشش کر رہے تھے جس سے پانی کے ذریعے بجلی پیدا کی جا سکے۔

بجلی بنانے کی اس ترکیب کو ’ریڈ‘ یعنی ’ری ورس الیکٹرو ڈائلیسز‘ کہا جاتا ہے اور اس میں سمندری اور دریائی پانی کی مدد سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

لیکن پین سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ ریڈ ٹیکنالوجی میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اس کو عمل میں لانے کے لیے بہت سے ’میمبرینز‘ یا جھلیوں کی ضرورت پڑتی ہے اور ساتھ میں ٹیکنالوجی کے اس پلانٹ کا ساحلی علاقے کے نزدیک ہونا بھی ضروری ہے۔

تاہم تحقیق کرنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی تجرباتی مشین میں نہ تو کسی پرت یا جھلّی کی اور نہ ہی سمندری پانی کی ضرورت پڑے گی۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر بروس لوگن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مشین کہیں بھی استعمال کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا ’فی الوقت اس کا سب سے اہم استعمال پانی کو صاف کرنا ہے لیکن ساتھ میں کچھ توانائی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں