طالبہ برطانیہ کی سرِ فہرست سائنسدان

کرتانا ولابھانینی
Image caption ’اگر میں یہ کامیابی حاصل کر سکتی ہوں تو دوسرے نوجوان بھی یقیناً ایسی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں‘. کرتانا ولابھانینی

مرسی سائیڈ کی ایک طالبہ کو اس سال برطانیہ کی سر فہرست نوجوان سائنسدان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

مغربی کربی گرامر سکول کی کرتانا ولابھانینی نے یہ اعزاز جمعہ کو برمنگھم این ای سی بگ بینگ میلے میں اس مقابلے میں حصہ لینے والے تین سو ساٹھ طلبا کے مقابلے میں جیتا۔

یہ سترہ سالہ طالبہ یونیورسٹی آف لیورپول میں لبلبے کے کینسر کا سبب بننے والے خلیوں کی نشاندھی کے لیے جاری تحقیق میں شامل ہے۔

ولابھانینی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ’اس کامیابی سے دوسرے نوجوانوں میں بھی سائنس کے لیے ویسا کی جذبہ پیدا ہو گا جو ان میں ہے‘۔

اس قومی ایوارڈ کے لیے مقابلے میں گیارہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے ایسے طلبا حصہ لے سکتے تھے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ یا ریاضی کے طلبا ہوں یا جنہوں نے ان میں سے کسی مضمون کے کسی پروجیکٹ یا منصوبے پر کام کیا ہو۔

جب کہ مقابلے کے ججوں کا پینل، معروف خلائی سائنسدان ڈاکٹر میگی ایڈرین پوکاک، نوبل انعام یافتہ حیاتی کیمیا داں سر ٹم ہنٹ، اور سائنس میوزیم کے ان وینٹر ان ریزیڈینس مارک چیمپکینز شامل تھے۔

کرتانا ولابھانینی کی کامیابی کے اعلان کے بعد ڈاکٹر ایڈرین پوکاک نے کہا کہ انہیں ولابھانینی کا کام کے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کرتانا ولابھانینی اور مقابلے کے فائنل مرحلے تک پہنچنے نوجوان اسی جذبے سے کام لیتے رہے تو ملک میں سائنس اور انجینیئرنگ کی صنعت کا مستقبل ناقابل یقین حد تک روشن ہے۔ اور انہی باصلاحیت نوجوان سے دوسرے نوجوانوں کی سائنس اور انجینیئرنگ کی طرف آنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

کرتانا ولابھانینی کیموتھراپی کے ذریعے لبلبے کے ایسے خلیوں کو دوسرے نظام سے لاتعلق کرنے کے منصوبے پر کام کرنے والی ایک ٹیم کا حصہ ہیں اور اس کامیابی پی ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کامیابی پر ’انتہائی خوش‘ ہیں۔

’میں گذشتہ سال کے دوران جو کچھ کیا اسی کا صلہ مجھے ملا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حقیقت تو یہ ہے کہ مقابلے کے فائنل میں چار لڑکیوں کا پہنچنا اس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کے لیے سائنس کے میدان مواقع بہت زیادہ ہیں اور خواتین کو روایتی اور دقیانوسی تصورات نہیں پڑنا چاہیے‘۔

’میں جو بھی کرتی ہوں پورے لگاؤ سے کرتی ہوں اور مجھے امید ہے کہ میری اس کامیابی سے دوسرے نوجوانوں میں بھی سائنس کے لیے وہی جذبہ پیدا ہو گا جو مجھ میں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ کامیابی حاصل کر سکتی ہوں تو دوسرے نوجوان بھی یقیناً ایسی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں.

اسی بارے میں