چاکلیٹ دبلے پن میں معاون

چاکلیٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چاکلیٹ ہماری صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے

ایک تازہ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے چاکلیٹ کھاتے ہیں وہ نسبتاً دبلے پتلے ہوتے ہیں۔

قد اور وزن یا جسامت کی عکاسی کرنے والے طریقے کو باڈی ماس انڈکس (بی ایم آئی) کہتے ہیں جس کے ذریعہ موٹاپا ماپا جاتا ہے۔

اس نئی ریسرچ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ اشخاص جو ہفتے میں کئی بار چاکلیٹ کھاتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے جو کبھی کبھی چاکلیٹ کھاتے ہیں زیادہ پتلے دبلے ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حالانکہ چاکلیٹ کیلوری سے بھرپور ہوتا ہے تاہم اس میں ایسے عناصر بھی ہیں جو موٹاپا پیدا کرنے کے بجائے وزن کم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

آرکائیوز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع اس مطالعے میں کہاگیا ہے کہ پابندی کے ساتھ چاکلیٹ کھانا کیلوری میں اضافے کے باوجود کم بی ایم آئی سے کہیں نہ کہیں جڑا ہوا ہے۔

دوسرے عناصر اور عوامل جیسے ورزش پر نظر رکھنے کے باوجود یہ پایاگیا کہ چاکلیٹ اور دبلے پن کا رشتہ اسی طرح برقرار تھا۔

اس میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چاکلیٹ اور پتلے ہونے کا رشتہ اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی کتنی بار چاکلیٹ کھاتا ہے نہ کہ کتنی مقدار میں چاکلیٹ کھاتا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے اس تحقیق میں اتفاق کی گنجائش صرف ایک فی صد ہو سکتی ہے۔

یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چاکلیٹ ہماری صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

اسی قسم کے دوسرے مطالعوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چاکلیٹ دل کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

یہاں تک کہا گیا ہے کہ خاص قسم کا چاکلیٹ کھانے سے خون کے دباؤ اور انسولین کے تئیں حساسیت میں مفید تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

چاکلیٹوں میں کالے چاکلیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے جو نقصان دہ عوامل، جو ہمارے خلیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، ان سے حفاظت کرتا ہے۔

اسی بارے میں