پستان: سیلیکون سرجری کے 50 سال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی ادا کارہ مارلن منرو جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی آپریشن کرایا تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پستانوں کو سیلیکون کے ذریعے بڑھانے کے طریقے کو رائج ہوئے اب پچاس سال ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں کاسمیٹک سرجری کے لیے کیے جانے والے آپریشنز میں یہ سرجری مقبولیت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے اور 2010 میں پندرہ لاکھ خواتین نے دنیا بھر میں یہ آپریشن کرائے۔

سب سے پہلا آپریشن 1962 کے موسمِ بہار میں ایک امریکی خاتون تمئی جین لنڈسے نے ٹیکساس، ہیوسٹن کے جیفرسن ڈیوڈ ہسپتال میں کرایا تھا۔ تب وہ چھ بچوں کو جنم دے چکی تھیں۔

ان کے پسانوں کو بی سے سی کپ میں تبدیل کرنے والا یہ تاریخ ساز آپریشن دو گھنٹے جاری رہا۔

جین لنڈسے اب اسّی کی ہو چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتی تھی کہ اس کا واقعی کوئی نتیجہ نکلے گا لیکن جب میں گھر سے نکلی اور کچھ مردوں نے مجھے دیکھ کر سیٹیاں بجائیں تو مجھے پتا چلا کہ کیا فرق پڑا ہے‘۔

اس آپریشن سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ بھی ہوا ہے اور انہیں اضافی توجہ حاصل ہونا اچھا بھی لگتا ہے لیکن اس کے باوجود، اس سے پہلے انہوں نے یہ یا ایسا کوئی آپریشن کرانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تاریخ ساز آپریشن کرانے والی امریکی خاتون تمئی جین لنڈسے تب اور اب

وہ تو اپنے پستان پر بنا ہوا ٹیٹو (نقش) ہٹوانے کے لیے ہسپتال گئی تھیں۔ لیکن ڈاکٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ایک نئی طرح کے آپریشن کے لیے رضاکار بننا پسند کریں گی؟

جین کا جواب تھا ’مجھے زیادہ دلچسپی اپنے کانوں سے ہے، جو ضرورت سے زیادہ باہر کو نکلے ہوئے ہیں۔ اگر آپریشن سے انہیں کچھ چھوٹا یا اندر کو کیا جا سکے تو میں رضا کار بننے کے لیے سوچ سکتی ہوں‘۔ ڈاکٹر نے کہا ’ٹھیک ہے، ہم یہ کر دیں گے‘۔ اور اس طرح سودا ہو گیا۔

اس آپریشن کے لیے دو سرجن پیش پیش تھے۔ سرجن فرینک جیرو اور سرجن ٹامس کرونین۔ سرجن جیرو ہی نے اس آپریشن کو پستانوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا سوچا۔

انسانوں کو خوبصورت بنانے کے لیے اب تک ہونے والی ایجادات کی تاریخ لکھنے والی ٹریسا رئردان کا کہنا ہے کہ جب وہ سرجن جیرو سے ملیں تو انہوں نے ایک پلاسٹک بلڈ بیگ کو ہاتھ میں لے کر دباتے ہوئے کہا کہ چھو کر دیکھو، اس کا لمس کس قدر پستان جیسا ہے؟

سیلیکون لگانے کا پہلا تجربہ ایک کتیا، اسمیرالڈا پر کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن کامیاب رہا اور سرجن جیرو نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ آپریشن پانی کی طرح بے ضرر ہے اور اسی کے بعد کسی ایسی خاتون کی تلاش شروع ہوئی جو رضاکارانہ اس آپریشن کے لیے آمادہ ہو۔

اگرچہ اس آپریشن کے بارے میں جین کی یادیں اب دھندلانے لگی ہیں پھر بھی ان کا کہنا ہے ’جب میں سرجری کے بعد گھر لوٹی تو مجھے کچھ عجیب سا لگتا تھا۔ ایسے جیسے میرے سینے پر کوئی بھاری چیز رکھی ہو۔ تین چار دن کے بعد سینے میں درد شروع ہو گیا، جو سرجری کا لازمی جز تھا‘۔

سرجن درد کا سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے نزدیک درد آپریشن کی کامیابی کی علامت تھا لیکن اس کے باوجود انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے کتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب اس سرجری میں سائیز ہی کے نہیں شکلوں کے بھی سینکڑوں انتخاب ہیں۔

اس کی اہمیت ان پر اس وقت زیادہ واضح ہوئی جب سرجن کرونِن نے 1963 میں عالمی سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنز کے واشنگٹن اجلاس میں اپنی کامیابیوں کی تفصیلات پیش کیں۔

سرجن کرونِن اور جیرو کے ایک جونئر ساتھی ڈاکٹر بگس کا کہنا ہے کہ سرجن کرونِن کی پیش کردہ تفصیلات کو سُن کر تو یوں لگا جیسے اجلاس کے شرکاء میں جوش و ولولے کی شعلے بھڑک اٹھے ہوں۔

پچاس کی دہائی کا امریکہ پلے بوائے میگزین، باربی گڑیا، مارلن منرو، جین رسل اور اس فیشن کا زمانہ ہے جب عورتوں کو بڑے پستانوں کا جنون تھا۔

اس زمانے میں ایسی انگیائیں بھی بہت مقبول تھیں جن کے اندر کچھ بھرا ہوتا تھا۔

پستانوں کے لیے سیلیکون کا استعمال سب سے پہلے ان جاپانی طوائفوں میں شروع ہوا جو امریکی فوجیوں کو رُجھانے کے لیے پستانوں میں انجیکشنوں کے ذریعے سیلیکون بھرواتی تھیں۔

لیکن یہ طریقہ محفوظ نہیں تھا۔ ایک تو سیلیکون پستانوں میں کچھ عرصے بعد ٹھوس شکل اختیار کر لیتا تھا اور دوسرا جہاں انجیکشن لگایا جاتا تھا وہ حصہ مردہ ہو جاتا تھا یا اس کے گرد خون جمع ہو جاتا تھا۔

امریکی ڈاکٹروں نے نہ صرف ان سب خرابیوں پر قابو پایا بلکہ شروع میں جو کمی تھی اسے بھی دور کیا۔ اب سائیز اور شیپس یا حجم اور انداز کے لحاظ سے ایک نئی وسعت موجود ہے اور ساڑھے چار سو شکلوں اور انداز میں کوئی سی بھی شکل اور انداز منتخب کیا جا سکتا ہے۔

کاسمیٹک سرجری میں سب سے زیادہ آپریشن موٹاپے یا مختلف اعضاء سے فیٹس کو کم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ان کے بعد پستانوں کے لیے کرائے جانے والے آپریشنز کا نمبر آتا ہے۔

جین بتاتی ہیں کہ شروع میں تو انہوں نے اپنے خاندان والوں اور بہت قریبی لوگوں کو بھی کچھ نہیں بتایا لیکن آہستہ آہستہ سب کو بتا دیا۔

’میرا خیال تھا کہ میرا سارا جسم بدل جائے گا لیکن پستان نہیں بدلیں گے۔ لیکن میرا خیال درست نہیں تھا۔ جسم کے ساتھ ساتھ پستان بھی ڈھلکنے لگے، بالکل جیسے فطری طور پر ہوتا ہے‘۔

اس کے باوجود وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے جسم میں ایک ایسی چیز موجود ہے جو نہ صرف خود تاریخ کا حصہ بلکہ جس نے انہیں بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’یہ سوچنا ہی خوش کن ہے کہ میں انسانی تاریخ کے ایک شعبے میں ایک حوالے سے پہلی عورت ہوں‘۔

اسی بارے میں