خلا کا جی پی ایس، ستاروں کی مدد سے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 1 اپريل 2012 ,‭ 16:20 GMT 21:20 PST

ایک دن آئے گا جب خلائی جہاز ’پلسار‘ کہلانے والے خاص قسم کے تاریک ستاروں سے خارج ہونے والی ایکسرے شعاؤں کی مدد سے خلا میں کہیں بھی اپنی پوزیشن کا بالکل درست تعین کر سکیں گے۔

یہ کثیف اور بجھے ستارے انتہائی تیزی سے گردش کرتے ہیں اور گھومنے کے ساتھ ساتھ یہ خلا میں ایکسرے شعائیں بھی چھوڑتے ہیں جن کے درمیان وقت کا فرق اس قدر مستحکم ہے کہ وہ ہماری جوہری گھڑیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ وقفوں کی یہ برابری خلائی سفر میں جہاز رانی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

اگر کسی خلائی جہاز میں ان شعاؤں کو پڑھنے کی صلاحیت ہو تو وہ اپنے پہنچنے کے وقت کا متعلقہ مقام کے بارے میں پہلے سے بتائے گئے وقت سے تقابل کر سکتا ہے اور اسی سے اُس خلائی جہاز کو کہکشاں میں کہیں بھی محض پانچ کلو میٹر تک اپنی پوزیشن کا صحیح تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گارچنگ میں واقع ’میکس پلینک انسٹیٹیوٹ فار ایکسٹرا ٹریسٹریل فزکس‘ کے پروفیسر ورنر بیکر کا کہنا تھا کہ اس کے اصول اتنے سادہ ہیں کہ انہیں ضرور قابلِ عمل بنایا جا سکتا ہے۔

.انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پلسار کائنات میں ہر جگہ ہیں اور ان کی چمک کے بارے میں پیش گوئی کرنا اتنا آسان ہے کہ اس نے مذکورہ طریقۂ کار کو انتہائی سہل اور سیدھا بنا دیا ہے۔

تجویز کردہ طریقہ کار مقبول گلوبل پوزیشنگ سسٹم (جی پی ایس) سے کافی ملتا جلتا ہے جسے استعمال کر کے مدار میں ذیلی سیاروں کے کسی بھی جھرمٹ سے صارفین کو وقت کے سگنل بھیجے جا سکتے ہیں۔ لیکن جی پی ایس سسٹم چونکہ صرف زمین یا اس سے کچھ اوپر تک کام کرتا ہے اس لیے وہ ہمارے سیارے سے آگے کسی کام کا نہیں۔

فی الحال جب کسی مشن کنٹرولر کو نظامِ شمسی میں کہیں دور موجود کسی خلائی جہاز کی پوزیشن معلوم کرنا ہوتی ہے تو اسے ذیلی سیارے اور اس خلائی جہاز کے درمیان ریڈیو مواصلات کی آمد و رفت پر صرف ہونے والے وقت کو سامنے رکھنا ہوتا ہے۔یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لیے بہت سارے ایسے اینٹینا درکار ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں جگہ جگہ لگے ہوں۔ پھر بھی یہ طریقہ بالکل درست نتائج نہیں دے سکتا اور غلطیوں کے امکانات موجود رہتے ہیں۔

اس وقت دور ترین کارآمد خلائی جہاز ناسا کے ویجر سیٹلائٹس ہیں جو نظامِ شمسی سے انتہائی قریب پہنچنے والے ہیں اور صرف تقریباً اٹھارہ ارب کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور ان کی پوزیشن کے تعین میں کئی سو کلومیٹر کی غلطی ہو سکتی ہے۔

آج کا طریقہ!

فی الحال جب کسی مشن کنٹرولر کو نظامِ شمسی میں کہیں دور موجود کسی خلائی جہاز کی پوزیشن معلوم کرنا ہوتی ہے تو اسے ذیلی سیارے اور اس خلائی جہاز کے درمیان ریڈیو مواصلات کی آمد و رفت پر صرف ہونے والے وقت کو سامنے رکھنا ہوتا ہے۔یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لیے بہت سارے ایسے اینٹینا درکار ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں جگہ جگہ لگے ہوں۔ پھر بھی یہ طریقہ بالکل درست نتائج نہیں دے سکتا اور غلطیوں کے امکانات موجود رہتے ہیں

چھوٹے فاصلے پر، جیسے کہ زمین سے مریخ تک کے فاصلے پر بھی پوزیشن میں دس کلومیٹر تک کی غلطی ہو سکتی ہے۔

تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ پلسار کی مدد سے نیویگیشن کا جلد استعمال ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شعاؤں کو پکڑنے والے آلات روایتی طور پر بھاری اور بڑے حجم کے ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کو اس ٹیکنالوجی کو کم وزن اور انتہائی چھوٹا بنانے پر توجہ دینا ہو گی تاکہ پلسار پر مبنی نیویگیشن ممکن ہو سکے۔

پروفیسر بیکر کے خیال میں پندرہ سے بیس سال کے دوران ایسے چھوٹے اور کم وزن آلات بنائے جا سکیں گے کہ جن کا خلائی نیویگیشن میں استعمال ہو سکے گا۔

ان کا خیال ہے کہ بہتر نیویگیشن آئندہ کے ممکنہ خلائی مشنوں کے لیے حفاظتی خدشات کے باعث انتہائی اہم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔