خلائی شٹل ’ڈسکوری‘ آخری منزل کی جانب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ناسا کا سٹل پروگرام تیس سال تک جاری رہا اور پچھلے سال بین الاقوامی خلائی سنٹر کی تکمیل کے بعد اسے تحویل کر دیا گیا۔

ناسا کی معروف خلائی شٹل ’ڈسکوری‘ اپنے آخری سفر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے اوپر سے گزرے گی۔

شٹل ڈسکوری کو ایک عجائب گھر میں رکھا جائے گا جہاں اس کی عوام کے سامنے نمائش کی جائے گی۔ ناسا نے گزشتہ سال اپنا شٹل پروگرام بند کر دیا تھا۔

ناسا کا کہنا تھا کہ ڈسکوری کو ایک خاص طور پر تیار کیے گئے 747 جہاز کے ساتھ منسلک کر کے اڑایا جائے گا۔

منگل کے روز فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سنٹر کے باہر، تقریباً دو ہزار تماشائیوں کے سامنے ، ڈسکوری نے اپنی آخری پرواز کی۔

ناسا کے سابق اہلکار اور اس شٹل پر کام کرنے والے درجنوں افراد ہجوم میں شامل تھے۔

جہاز کا وسطی حصہ چڑھتے سورج کی روشنی سےچمک رہا تھا۔

واشنگٹن میں شٹل کے منتظرین سے کہا گیا تھا کہ بہترین نظارے کے لیے وہ نیشنل مال میں جمع ہوں۔ نیشنل مال دو میل لمبا پارک ہے جو کہ واشنگٹن کے درمیانی حصے میں واقع ہے۔

ناسا کا شٹل پروگرام عالمی سطح پر معروف تھا مگر دو تباہ کن حادثات اور بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث اسے روک دیا گیا۔

ڈسکوری نے تقریباً پندرہ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑ کر واشنگٹن کے مختلف مقامات پر سے گزرنا تھا۔

ڈسکوری کی آخری منزل ’سمتھسونین انسٹیٹیوٹ‘ کا ’نیشنل ائیر اینڈ سپیس میوزیم‘ ہے جو کہ ورجنیا میں واشنگٹن کے مرکزی ہوائی اڈے ڈیولز کے قریب واقع ہے۔

’ڈسکوری‘ ناسا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی شٹل ہے۔ اس نے انتالیس مرتبہ خلا میں سفر کیا۔

ناسا کی آخری تین شٹلوں کو عجائب گھروں میں رکھا جائے گا جن میں سے ڈسکوری پہلی ہے۔ ’اینٹرپرائز‘ اور ’اینڈیور‘ کو بھی اس سال کے آخر تک منقتل کر دیا جائے گا۔

ناسا کا سٹل پروگرام تیس سال تک جاری رہا اور پچھلے سال بین الاقوامی خلائی سنٹر کی تکمیل کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد اب ناسا کے پاس خلابازوں کو خلائی سفر پر بھیجنے کا کوئی طریقہ نہیں رہا۔

اسی بارے میں