دنیا بھر میں’سپر مون‘ کا نظارہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں گرینچ وقت کے حساب سے سوپر مون گزشتہ رات ساڑھے تین بجے اپنے جوبن پر تھا۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آسمان پر ایک ایسا چاند نمودار ہوا جو معمول سے بڑا اور زیادہ روشن تھا۔

’سوپر مون‘ کہلانے والا یہ چاند زمین کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے معمول سے چودہ فیصد زیادہ بڑا اور تیس فیصد زیادہ روشن تھا۔

برطانیہ میں روئل ایسٹرو نومیکل سوسائٹی کے ڈاکٹر رابرٹ میسی نے بتایا کہ سوپر مون کو دیکھنے والوں کا دھیان اس کی روشنی سے زیادہ اس کے حجم پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی آنکھ چمک دمک کی تبدیلی کو اتنا دھیان میں نہیں لاتی جتنا کہ حجم میں تبدیلی کو محسوس کرتی ہے۔

واضح رہے کہ جس وقت سوپر مون زمین سے سب سے بڑا دکھائی دیا اس وقت اس کی زمین سے مسافت 356,400 کلومیٹر تھی جبکہ عام طور پر چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ 384,000 کلومیٹر تک کا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر میسی کے مطابق جس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں سپر مون یا زیادہ روشن چاند زمین کے سب سے قریب ہوگا اس وقت چاند اور سورج کی کششِ ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والے مدو جزر سے سمندری لہریں معمول سے زیادہ بلند ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا ’چاند ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے اور چودویں کا چاند ہمیشہ سنسنی خیز ہوتا ہے۔‘

پاکستان میں گرینچ کے معیاری وقت کے حساب سے سوپر مون سنیچر کی رات ساڑھے تین بجے اپنے جوبن پر تھا۔

اسی بارے میں