ہلدی کینسر کے علاج میں مددگار؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ہلدی میں موجود کرکیومن کینسر زدہ خلیات پر کیموتھراپی کے اثرات کو بڑھا سکتا ہے

برطانیہ میں سائنسدان یہ جاننے کے لیے تجربات کر رہے ہیں کہ آیا ہلدی میں موجود کیمیکل آنت کے کینسر کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہلدی میں پایا جانے والا کرکیومن نامی یہ کیمیائی مادہ نہ صرف تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے کینسر زدہ خلیات کو ختم کر سکتا ہے بلکہ دل اور یادداشت کی کمزوری کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اب برطانوی شہر لیسٹر کے ہسپتالوں میں کیموتھراپی کے ساتھ ساتھ کرکیومن کی خوراک کے استعمال کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال چالیس ہزار افراد میں آنت کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔

اگر یہ بیماری جسم میں پھیل جائے تو مریضوں کو عموماً تین کیموتھراپی کی دوائیں ملا کی دی جاتی ہیں تاہم نصف سے زیادہ مریضوں پر ان کا خاص اثر نہیں ہوتا۔

اس تجربے میں لیسٹر جنرل ہسپتال کے چالیس مریض حصہ لیں گے جنہیں کیموتھراپی کے آغاز سے سات دن قبل کرکیومن کی گولیاں دی جائیں گی۔

اس تجربے کے نگران پروفیسر ولیم سٹیورڈ کا کہنا ہے کہ جانوروں پر ان دونوں چیزوں کے مشترکہ استعمال سے نتائج سو گنا بہتر رہے اور یہی اس انسانی تجربے کی بنیاد بنی۔

انہوں نے کہا کہ ’آنت کا کینسر اگر جسم میں پھیل جائے تو اس کا علاج انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ مریضوں پر کیموتھراپی کے طویل عرصے تک استعمال کے نتائج بھی ہیں‘۔

ڈاکٹر سٹیورڈ کے مطابق یہ امکانات کہ کرکیومن کینسر زدہ خلیات پر کیموتھراپی کے اثرات کو بڑھا سکتا ہے اس لیے خوش آئند ہیں کہ اس سے مریضوں کو کم مقدار میں کیموتھراپی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ زیادہ عرصے تک علاج جاری رکھ پائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ایک پودے کے کیمیائی مادے سے کینسر کے علاج میں مدد لینا انوکھی بات ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے مستقبل میں نئی ادویات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے کی جوانا رینلڈز کا کہنا ہے کہ ’اس قسم کے تجربے سے ہمیں کرکیومن کی بڑی مقدات کے استعمال کے ممکنہ فوائد اور کینسر کے مریضوں پر اس کے دیگر اثرات کا پتہ چل سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں