تھر پارکر میں مشتبہ شہابیہ گرنے کا واقعہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دنیا میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں مگر پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے: سپارکو

پاکستان کے خلائی ادارے ’پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹماسفیر ریسرچ کمیشن‘ یعنی سپارکو نے مشتبہ شہابیہ (میٹرورائٹ) کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ٹیم ڈیپلو روانہ ہوگئی ہے۔

بدین اور تھر پارکر کے بعض علاقوں میں پانچ مئی کی شب آسمان سے زمین کی طرف سفر کرتی ہوئی ایک روشن چیز دیکھی گئی۔ بعد میں تھر پارکر کے شہر ڈیپلو سے بیس کلومیٹر دور واقع گاوں لاڈکی ٹھاکر میں دھماکے کے ساتھ روشنی پیدا ہوئی۔

اس گاؤں کے ایک رہائشی کانجی کا کہنا ہے کہ رات کو تقریباً دس یا ساڑھے دس بجے کا وقت تھا جب وہ بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ موجود تھے کہ روشنی کے ساتھ پرائمری سکول میں دھماکے کی آواز آئی۔

انہوں نے کہا ’ہم رات کو دھماکے والی جگہ پہنچے مگر کچھ نظر نہیں آیا صبح کو دوبارہ گئے تو ایک سیاہ رنگ کا پتھر نظر آیا اور ساتھ میں ایک چھوٹا سا گڑھا موجود تھا۔‘

علاقے کے صحافیوں کو جب اس واقعے کا معلوم ہوا تو وہ اپنے ساتھ پولی ٹینکیکل انسٹیٹیوٹ کے استاد پروفیسر جبار جونیجو کو ساتھ لے گئے۔

پروفیسر جبار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پتھر کا وزن سو گرام اور حجم چار انچ ہے، اس میں آئرن کی مقدار زیادہ ہے کیونکہ اس پر جب مقناطیس لگایا گیا تو وہ اس سے چپک گیا تھا۔ ان کے مطابق پتھر کی بیرونی رنگت سیاہ ہے جبکہ اندر کی تہہ کا رنگ بھورا ہے۔

پروفیسر جبار کا خیال ہے کہ ایسے دوسرے بھی ٹکڑے گرے ہوں گے جو شاید ریت میں دب گئے ہیں، جن کی تحقیق کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کے جنرل منیجر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں مگر پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

سپارکو نے ایک ٹیم روانہ کی ہے جو وہاں جاکر اس پتھر کا مشاہدہ کرے گی جس کے بعد اس کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا، اگر یہ ثابت ہوا کہ یہ شہابیہ ہے تو پھر اس کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

جنرل منیجر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ خلا میں سیاروں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں۔ زمین چونکہ سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس دوران یہ ٹکڑے کشش سے ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ زمین کی طرف آتے ہیں۔

’ سال کے مختلف دنوں میں سیاروں کے ٹکڑے ٹوٹتے اور زمین کی جانب آتے ہوئے زمین کی فضاء میں ہی تحلیل ہوجاتے ہیں مگر کبھی کبھی ان میں سے کچھ زمین پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں