بچوں کی اموات کی وجہ انفیکشن

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 مئ 2012 ,‭ 10:46 GMT 15:46 PST
ہسپتال کا فوٹو

پوری دنیا میں ہونے والی بچوں کی اموات میں سے آدھی اموات افریقہ میں ہوتی ہیں

امریکی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں بچوں کی اموات آسانی سے قابو پائے جانے والے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

امریکی طبی ماہرین کی یہ تحقیق سائنسی جریدے لینسیٹ میں شائع ہوئی ہے۔اس تحقیق میں طبی ماہرین نے سنہ دو ہزار دس میں ہونے والی بچوں کی اموات کا جائزہ لیا تھا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے مرنے والوں میں سے دو تہائی بچے صرف انفیکشن کے سبب مر جاتے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہوتی ہے۔

ایک طبی ماہر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا نتائج کو عمل میں لانا ضروری ہے۔

امریکہ کی جان ہوپکنس بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے مختلف ڈیٹا کا جائزہ لیا اس میں گھرگھر کیے جانے والے سروے، ایک سو ترانوے ممالک میں بچوں کے جنم کے رجسٹریشن کا نظام شامل تھا۔

اس تحقیق کے مطابق سنہ دو ہزار سے بچوں کی اموات میں چھبیس فی صد کمی آئی ہے اور اس کے علاوہ ہیزے، چیچک اور نمونیا کی وجہ سے اموات میں بھی کمی آئی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں ابھی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

پوری دنیا میں ہونے والی بچوں کی اموات میں سے دو تہائی اموات صرف افریقہ میں ہوتی ہیں اور ان اموات کی سب سے بڑی وجہ ملیریا اور ایڈز جیسی بیماریاں ہیں۔اس کے علاوہ آدھے سے زیادہ اموات بھارت، نائجیریا، پاکستان، کونگو اور چین میں ہوتی ہیں۔

جنوب مشرق ایشیا کے ممالک میں وقت سے پہلے پیدائش کے سبب ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوتی ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ ملینیم ڈیلوپمنٹ گول کے تحت 2015 تک بچوں کی صحت میں بہتری کے ہدف حاصل کرنے میں بہت ہی کم ممالک کامیاب ہو پائیں گے۔

لینسیٹ میں شائع ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ نمونیا اور وقت سے پہلے پیدائش کے سبب ہونے والی صحت سے متعلق پریشانیاں بچوں کی اموات کی ابھی بھی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔