ڈریگن خلائی سٹشین میں پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر موجود ایک روبوٹک بازو نے وہاں خوراک اور دیگر سامان لے جانے والے ایک جہاز ڈریگن کو سٹیشن کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔

یہ روبوٹک بازو بہت جلد اس جہاز کو سٹیشن کے ایک مخصوص حصے میں لے جائے گا جہاں سے اس پر لدا ہوا سامان اتارا جائے گا۔

ڈریگن نامی یہ جہاز کیلیفورنیا کی نجی کمپنی سپیس ایکس نے بنایا ہے اور اس پر بین القوامی خلائی سٹیشن پر تعینات خلابازوں کے لیے آدھا ٹن وزنی خوراک اور دیگر سامان لے جایا گیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی نجی کمپنی نے بین القوامی خلائی سٹیشن تک سامان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

خلائی سٹیشن پر موجود امریکی خلاباز ڈان پیٹیٹ ڈریگن کو پکڑنے والے نظام کو چلا رہے تھے۔ انہوں نے ٹیکساس میں ناسا کے مشن کنٹرول سٹر کو ریڈیو پیغام دیا کہ ’ ہوسٹن، ہم نے ڈریگن کو اس کی دُم سے پکڑ لیا ہے۔‘

یہ پیغام ملتے ہی ناسا کے سنٹر اور کیلیفورنیا میں سپیس ایکس کے دفاتر تالیوں سے گونج اٹھے۔ سپیس ایکس میں بھی ڈریگن کی پرواز کا مشاہدہ کیا جا رہا تھا۔

ایک مرتبہ ڈریگن خلائی سٹیشن سے منسلک ہو گیا تو پھر خلا باز اس جہاز کے اندر جا کر سامان اُتار سکتے ہیں۔ یہ کام سنیچر کے روز ہونا متوقع ہے۔

ڈریگن کا خلائی سٹیشن کے ساتھ الحاق انسانی خلا بازی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

روایتی طور پر اس طرح کی تمام کوششیں حکومتی سرپرستی میں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اب امریکی خلائی ادارہ ناسا پیسے بچانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس رقم کو اپنے دیگر خلائی مشنز جیسے کہ مریخ پر تحقیق کے لیے استعمال کر سکے۔

اسی بارے میں