ڈریگن کی کامیاب خلائی مشن کے بعد واپسی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 مئ 2012 ,‭ 18:41 GMT 23:41 PST

سپیس ایکس مال برداری کے مزید بارہ مشن مکمل کرے گی

امریکی نجی کمپنی سپیس ایکس کا ڈریگن نامی مال بردار خلائی جہاز اپنا مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد زمین پر واپس پہنچ گیا ہے۔

ڈریگن کیپسول برطانوی وقت کے مطابق شام پونے پانچ بجے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں اترا جہاں سے اسے تیز رفتار کشتیوں کی مدد سے خشکی پر لایا گیا۔

اس خلائی کیپسول کی مدد سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر تعینات خلا بازوں کے لیے آدھا ٹن وزنی خوراک اور دیگر سامان لے جایا گیا تھا۔

خلائی مرکز کے قریب پہنچنے کے بعد وہاں نصب ایک روبوٹک بازو نے جہاز کو سٹیشن سے منسلک کر دیا تھا۔

بعد ازاں اسی روبوٹک بازو کی مدد سے جہاز کو سٹیشن کے ایک مخصوص حصے میں لے جایا گیا جہاں اس پر لدا ہوا سامان اتارا گیا۔

یہ جہاز خلائی سٹیشن سے واپسی میں اپنے ساتھ تکمیل شدہ تجربات کے سامان کے علاوہ متروک آلات بھی لایا ہے۔

خلائی کیپسول کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں اترا

اس مشن کی کامیابی کے ساتھ ہی امریکی خلائی ادارہ ناسا کے سپیس ایکس کے ساتھ ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کے معاہدے کا آغاز ہوگا جس کے تحت نجی کمپنی ایسے مزید بارہ مشن سرانجام دے گی۔

یہ انسانی خلا بازی کی تاریخ میں پہلا موقع اور ایک بڑا سنگِ میل ہے کہ کسی نجی کمپنی نے بین الاقوامی خلائی مرکز کو سامان اور رسد کی فراہم کا مشن کامیابی سے مکمل کیا ہے۔

روایتی طور پر اس طرح کی تمام کوششیں حکومتی سرپرستی میں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اب امریکی خلائی ادارہ ناسا پیسے بچانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس رقم کو اپنے دیگر خلائی مشنز جیسے کہ مریخ پر تحقیق کے لیے استعمال کر سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔