’کہکشاؤں کا تصادم چار ارب سال بعد‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملکی وے اور اینڈرومیڈا میں پچیس لاکھ نوری سال کا فاصلہ ہے

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ارب سال کے بعد ہماری کہکشاں ملکی وے اپنی ہمسایہ کہکشاں اینڈرومیڈا سے ٹکرا جائے گی۔

ماہرین نے یہ نتیجہ نکالنے کے لیے ہبل دوربین کی مدد لی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں نوری سال دور واقع یہ دونوں کہکشائیں اپنی اپنی کششِ ثقل کی وجہ سے ایک دوسرے کی جانب کھنچی چلی جا رہی ہیں اور چار ارب سال بعد یہ آپس میں ٹکرائیں گی اور اس کے دو ارب سال بعد یہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں ہمارے سورج کی پوزیشن پر تو اثر پڑے گا لیکن خود سورج اور اس کے سیاروں کی تباہی کا امکان موجود نہیں ہے۔

ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور امریکی ریاست بالٹی مور کے خلائی دوربینی سائنسی مرکز سے تعلق رکھنے والے رولینڈ وین ڈرمیرل کا کہنا ہے کہ ’ آج اینڈرومیڈا نامی یہ کہکشاں آسمان پر ایک چھوٹی سی چیز دکھائی دیتی ہے اور اسے پہلی بار ماہرینِ فلکیات نے ایک ہزار سے زائد عرصہ قبل دیکھا تھا‘۔

ان کا کہنا ہے ’چند ہی چیزیں ہیں جن میں انسان کی دلچسپی کائنات کی قسمت اور اس کی مستقبل کے بارے میں جاننے سے زیادہ ہے اور یہ پیشن گوئی کرنا کہ یہ چھوٹی سی چیز(اینڈرومیڈا) ایک دن ہمارے سورج اور نظامِ شمسی پر غلبہ پا لے گی یقیناً ایک اچھوتی چیز ہے‘۔

ملکی وے اور اینڈرومیڈا میں پچیس لاکھ نوری سال کا فاصلہ ہے اور یہ ایک دوسرے کی جانب چار لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔

ماہرینِ فلکیات کے مطابق چار ارب سال کے بعد یہ دونوں اتنی قریب آ جائیں گی کہ اینڈرومیڈا ہماری کہکشاں پر غالب آ جائے گی۔

رولینڈ وین ڈرمیرل کے مطابق ’یہ جاننا ضروری ہے کہ نہ صرف اینڈرومیڈا ہماری جانب بڑھ رہی ہے بلکہ یہ اپنے اطراف کی جانب کیسے حرکت کر رہی ہے کیونکہ اسی سے پتہ چل سکتا ہے کہ آیا اینڈرومیڈا ہم سے کچھ دور سے نکل جائے گی یا وہ سیدھی ہماری جانب ہی آ رہی ہے‘۔

ماہرینِ فلکیات اینڈرومیڈا کی اطراف میں حرکت کو جانچنے کی کوشش ایک صدی سے کر رہے تھے لیکن اس میں ناکامی ہوتی رہی جس کی وجہ پیمائش کے لیے درکار صلاحیت کی عدم موجودگی تھی۔

رولینڈ کے مطابق ’اب پہلی مرتبہ ہم نے ہبل خلائی دوربین کی مدد سے اس کی اطراف میں ہونے والی حرکت کو جسے علمِ فلکیات میں باقاعدہ حرکت کہا جاتا ہے، ناپنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ہبل سے حاصل شدہ اعدادوشمار سے تیار کیے گئے کمپیوٹر ماڈل سے پتہ چلا کہ ستاروں کے یہ دونوں بڑے جھرمٹ آخرِ کار ایک ہوجائیں گے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ کہکشاؤں کے تصادم کے باوجود ان کے ستارے آپس میں نہیں ٹکرائیں گے کیونکہ ان کے درمیان وسیع خلاء موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق سات ارب سال میں یہ ادغام ایک بہت بڑی کہکشاں کی شکل اختیار کر لے گا جس کا مرکز منور ہوگا۔

اسی بارے میں