قبل از وقت ولادت، ذہنی مسائل کا باعث

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہر تیرہ میں سے ایک بچہ قبل از وقت پیدا ہوتا ہے

محققین کے مطابق وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں مختلف قسم کے ذہنی مسائل کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

’دی آرکائیوز آف جنرل سائیکیئیٹری‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کا کہنا ہے کہ دوہری شخصیت، شدید افسردگی اور دماغی خلل جیسے مسائل ان بچوں میں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

البتہ مجموعی طور پر ان مسائل کے پیدا ہونے کے امکانات کافی کم ہیں تاہم قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ان کی شرحِ امکان زیادہ ہے۔

ایک مکمل حمل کا دورانیہ تقریباً چالیس ہفتے ہوتا ہے مگر ہر تیرہ میں سے ایک بچہ قبل از وقت پیدا ہوتا ہے یعنی چھتیس ہفتوں یا اس سے پہلے۔

کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف سائیکیئیٹری اور کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ سوئیڈن میں محققین نے سنہ انیس سو تہتر سے سنہ انیس سو پچاسی تک پیدا ہونے والے تیرہ لاکھ افراد کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ ہسپتالوں میں ذہنی امراض کے ساتھ داخل ہونے والے دس ہزار پانچ سو تیئس مریضوں میں سے پانچ سو آٹھ قبل از وقت پیدا ہوئے تھے۔

محققین نے واضح کیا کہ مکمل حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں ذہنی امراض کا امکان سفر اشاریہ دو فیصد ہوتا ہے جبکہ چھتیس ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ دوگنا یعنی سفر اشاریہ چار فیصد ہوتا ہے۔ بتیس ہفتوں سے بھی پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ امکان بڑھ کر سفر اشاریہ چھ فیصد ہو جاتا ہے۔

ایک محقق ڈاکٹر چیئارا نوسارتی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہوں کیونکہ تھوڑے بہت ذہنی مسائل میں تو مریض ہسپتال نہیں جاتے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے خطرات انتہائی کم تھے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی اکثریت مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ’ میرا نہیں خیال کہ والدین کو فکرمند ہونا چاہیے لیکن ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ذہنی مسائل کا امکان تھوڑا زیادہ ہوتا ہے اس لیے والدین کسی بھی مسئلے کے اثار کی جلد ہی جانچ کروا سکیں گے۔‘

بچوں کی ایک فلاحی تنظیم ’بللس‘ کا کہنا تھا کہ یہ تو پہلے سے واضح ہے کہ قبل از وقت ولادت سے ذہنی نشو نما پر اثر پڑتا ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ذہن کو نقصان سے بچانے کے لیے اس کا درجہ حرارت کم رکھنے اور اس تک آکسیجن کے درست مقدار پہنچانے کے طریقوں میں کافی بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں