’جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مسائل‘

خواتین گیمرز تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خواتین گیمرز کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

ویڈیو گیمز کھیلنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ یہاں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

امریکہ میں ویڈیو گیمز کھیلنے والی خواتین کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اب ان کا تناسب بیالیس فیصد ہے۔

لیکن ویڈیو گیمز کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے مطابق عورتوں کے اس تناسب کے باوجود یہاں کا ماحول کافی مردانہ ہے اور یہاں عورتوں کو عام طور پر ناشائستہ زبان کا سامنا رہتا ہے۔

بی بی سی کے جیمز فلیچر کا کہنا ہے کہ اس میں استعمال کی جانے والی زبان سے بھی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

ویڈیو گیمز کی دنیا میں استعمال ہونے والی زبان کچھ اس طرح ہے جس کا سامنا خواتین کو اکثر کرنا پڑتا ہے۔

’باورچی خانے میں جا، مردود اپنا ہاتھ ویڈیو گیمز کے کنٹرولر سے ہٹا‘۔

خواتین گیمرز کا کہنا ہے کہ مرد گیمز کھیلنے والوں کی آواز جارحانہ اور غصیلی ہوتی ہے۔ ان کی بات چیت یا کسی کی ہتک میں کافی گالیاں اور جنسی بدتمیزیاں ہوتی ہیں۔

اگر کسی کے لیے کوئی ’اسٹوپڈ بچ‘ کا استعمال کرتا ہے تو دوسرا اس میں ’موٹی چڑیل‘ جوڑ دیتا ہے۔

کوئی ویڈیو گیمز کے مقابلے میں اپنی خاتون مقابل کو یہ کہہ دیتا ہے ’مجھے معلوم ہے تمہارا بوائے فرینڈ تمہیں پیٹتا ہوگا، ارے نہیں، تمہارا تو بوائے فرینڈ ہی نہیں ہے‘۔

Image caption امریکہ میں خواتین گیمرز بیالیس فیصد ہیں

جب گالیوں کا یہ سلسلہ رکتا ہے تو جنّی ہانیور ہنستی ہے اور کہتی ہے ’کیا کہا اپنے کچن میں جا، ارے میں اپنے کچن میں اس لیے نہیں ہوں کہ میں ویڈیو گیمز میں تمہارے پچھواڑے پر لات مارنے والی ہوں کیونکہ میں ویڈیو گیمز میں اچھی ہوں‘۔

بی بی سی کی جیمز فلیچر کا کہنا ہے جینی ماڈرن وار ‌فيئر- 3 کھیلنے جاتی ہے جو کہ جنگی لڑائی پر مبنی ویڈیو گیم ہے اور اس میں دوسرے کھلاڑیوں سے ہیڈ سیٹ پر بات بھی ہوتی رہتی ہے۔ اوپر کی گفتگو اس نے اپنے کھیل کے دوران ریکارڈ کی تھی۔

پھر ہانیور اس ریکارڈنگ کو اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیتی ہے۔ وہ کالج کے بعد شام میں گیمز کھیلتی ہے اور اسے ہر دن کس نہ کسی قسم کے ہراس کا سامنا رہتا ہے۔

ہانیئر نے بتایا ’میری زندگی کا سب سے برا تجربہ وہ تھا جب ایک کھلاڑی نے درمیان میں ہی کھیل چھوڑ دیا اور پھر اس نے مجھے ایک وائس میسج بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ میرا ریپ ہوجائے اور میرے ساتھ میرے گھر کے تمام افراد مارے جائیں‘۔

جیمز فیلچر نے کہا کہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ بہت عام ہیں۔

فیٹ اگلی اور سلٹی نام کی ایک آن لائن گیمنگ سائٹ کی مشترکہ بانی گریس کا کہنا ہے کہ ’موٹی‘، ’چڑیل‘، ’فاحشہ‘، ’آوارہ‘ جیسے پوسٹ عام طور پر نظر آتے ہیں جو خواتین کو بھیجے جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے بہتّر فیصد گھروں میں ویڈیو گیمز کمپیوٹر یا ویڈیو گیمز پر کھیلا جاتا ہے۔ اور گیمز کھیلنے والوں کی اوسط عمر سینتیس سال ہے جو بارہ سال سے گیمز کھیل رہے ہیں۔

اٹھارہ سال سے زیادہ عمر والی خواتین کا تناسب سینتیس فیصد ہے۔

یورپ میں سولہ سال سے زیادہ عمر والی عورتیں کل گیمز کھیلنے والوں کا اکتیس فی صد ہیں اور برطانیہ، فرانس، جرمنی، سپین، اٹلی، نیدرلینڈ اور سوئیڈن کے بتیس فیصد گھروں میں گیمز کے کنسول ہیں۔ یہاں خواتین گیمرز کے مقابلے مرد گیم کھیلنے والے کم عمر ہیں۔

کئی ویڈیو گیمز کھیلنے والی خواتین کا ماننا ہے کہ مردوں کی زبان اس وقت اور بھی خراب ہو جاتی ہے یا انہیں جنسی طور پر زیادہ ہراساں اس وقت ہونا پڑتا ہے جب وہ پلٹ کر جواب دیتی ہیں۔

اسی بارے میں